حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ ، وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ لَهُ : " مِثْلَ ذَلِكَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ : فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو “ ، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا ، اور آپ سے پھر پوچھا : ” کون سی دعا افضل ہے ؟ “ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا ، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا ، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا ، مزید فرمایا : ” جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3512
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3848) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (839) ، ضعيف الجامع الصغير (3269) ، المشكاة (2490) // , شیخ زبیر علی زئی: (3512) إسناده ضعيف / جه 3848, سلمة بن وردان : ضعيف (تقدم: 1993)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الدعاء 5 (3848) ( تحفة الأشراف : 869) (ضعیف) (سند میں ’’ سلمہ بن وردان ‘‘ ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3848

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو ، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: کون سی دعا افضل ہے؟ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی۔‏‏‏‏۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3512]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ’’سلمہ بن وردان‘‘ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3512 سے ماخوذ ہے۔