حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا " ، قَالُوا : وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " حِلَقُ الذِّكْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم ( کچھ ) چر ، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مساجد میں کچھ عبادت و بندگی اور ذکر و فکر کر کے اپنی یہ اخروی زندگی کی آسودگی کا کچھ سامان کر لیا کرو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3510]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3510]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مساجد میں کچھ عبادت و بند گی اور ذکرو فکر کرکے اپنی یہ اُخروی زندگی کی آسودگی کا کچھ سامان کر لیا کرو۔
نوٹ:
(سند میں ’’محمد بن ثابت البنانی‘‘ ضعیف ہیں، لیکن شاہد اور متابع کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو (الصحیحة: 2562، تراجع الألبانی: 92)
وضاحت:
1؎:
مساجد میں کچھ عبادت و بند گی اور ذکرو فکر کرکے اپنی یہ اُخروی زندگی کی آسودگی کا کچھ سامان کر لیا کرو۔
نوٹ:
(سند میں ’’محمد بن ثابت البنانی‘‘ ضعیف ہیں، لیکن شاہد اور متابع کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو (الصحیحة: 2562، تراجع الألبانی: 92)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3510 سے ماخوذ ہے۔