سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الدَّابَّةِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَجِئْتُ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا ، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا .´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو ( دیکھا کہ ) آپ اپنی سواری پر مشرق ( پورب ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے ، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے ، ۲- اس باب میں انس ، ابن عمر ، ابوسعید ، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے ، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے ، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو (دیکھا کہ) آپ اپنی سواری پر مشرق (پورب) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 351]
1؎:
واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے، نہ کہ فرائض کے لیے۔
ایک روایت میں ہے کہ اونٹنی پر نماز شروع کرتے وقت آپ ﷺ قبلہ کی طرف منہ کرکے تکبیر کہہ لیا کرتے تھے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے قبلہ روہوکر نماز پڑھنے کی پابندی سے ایک استثنائی صورت بیان کرنے کے لیے اس حدیث کو ذکر کیا ہے، یعنی اگر نفل نماز کی ادائیگی مقصود ہوتو قبلہ روہونے کی پابندی ضروری نہیں، لیکن سنن ابوداود میں ہے کہ جب آپ دوران سفر میں نفل نماز اپنی سواری پر پڑھنا چاہتے تو پہلے سواری کامنہ قبلے کی طرف کرلیتے، اس کے بعد تکبیرتحریمہ کہہ کر نماز شروع کرلیتے، پھر سواری کا منہ جدھر بھی ہوجاتا کوئی پروانہ کرتے، البتہ فرض نماز سواری سےا ترکر قبلہ روہوکر ادا فرماتے۔
(سنن أبي داود، صلاة السفر، حدیث: 1225)
2۔
الضرورات تبیح المحذورات کے اصول کے پیش نظر اگرشدت خوف ہوتو فرض نماز کے لیے استقبال قبلہ کی شرط ساقط ہو جاتی ہے۔
اسی طرح اگرسفر میں بارش ہوجائے اورنماز پڑھنے کے لیے خشک جگہ نہ ملے تو سواری کوروک کرقبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے، لیکن ریل اور بس میں جو بیٹھ کرنماز پڑھنے کارواج ہے، اس کی اصلاح نہایت ضروری ہے، کیونکہ نماز میں استقبال قبلہ اور قیام دونوں ضروری ہیں۔
ریل اور بس میں نماز پڑھنے سے یہ دونوں فوت ہوجاتے ہیں۔
اسلامی حکومت کو چاہیے کہ ریل کے ڈبوں میں ایک ڈبہ ادائیگی نماز کے لیے مختص کرے جس میں پانی اور سمت قبلہ کا اہتمام ہو۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزوہ انمار غزوہ بنی مصطلق کے آخر میں 27 صفر میں واقع ہوا، اس لیے کہ ابو الزبیر نے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ غزوہ بنی مصطلق کے لیے جا رہے تھے۔
میں حاضر خدمت ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ اونٹ کے اوپر نماز پڑھ رہے تھے۔
لیث کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بنی انمار میں صلوۃ الخوف کو ادا کیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ متعدد واقعات ہوں۔
(فتح الباري)
1۔
سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔
اس میں استقبال قبلہ ضروری نہیں اور نہ بحالت سجدہ پیشانی زمین پر رکھنا ہی واجب ہے بلکہ رکوع اور سجدہ اشارے سے کیا جا سکتا ہے۔
لیکن امام بخاری ؒ نے فقہی مسئلہ بیان کرنے کے لیے اس حدیث کو یہاں ذکر نہیں کیا بلکہ غزوہ انمار کے ثبوت کے لیے اسے پیش کیا ہے۔
2۔
امام بخاری کے اسلوب پراعتراض کیا گیا ہے کہ اس غزوے کا ذکر پہلے ہونا چاہیے تھا اسے غزوہ بنو مصطلق کے ضمن میں ذکر کرنا مناسب نہیں۔
شاید امام بخاری کا موقف یہ ہے کہ غزوہ انمار غزوہ مریسیع کے دوران میں واقع ہوا ہو۔
چنانچہ ابوزبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ غزوہ بنو مصطلق کے لیے تشریف لے جا رہے تھے میں حاضر ہوا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے لیث کی روایت سے بھی اس امرکی تائید ہوتی ہے کہ غزوہ انمار میں رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ خوف ادا کی تھی۔
یہ بھی احتمال ہے کہ متعدد واقعات ہوں۔
(فتح الباري: 536/7)
3۔
چونکہ واقعہ افک غزوہ بنو مصطلق سے واپسی کے موقع پر پیش آیا۔
اس لیے آخر میں حدیث افک بیان کی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
(واللہ أعلم بالصواب)
(1)
فرض نماز ادا کرنے کے لیے قبلے کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔
اس پر علمائے امت کا اجماع ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سواری پر فرض نماز ادا کرنا صحیح نہیں، ہاں! اگر کوئی معذور ہے تو اسے اجازت ہے، البتہ نماز خوف میں استقبال قبلہ کی پابندی نہیں۔
ایسے ہنگامی حالات میں جس طرف بھی منہ ہو فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 742/2) (2)
سواری پر نفل پڑھتے وقت ابتدا میں سواری کو قبلہ رخ کر لیا جائے، پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو جائے اپنی نماز جاری رکھے جیسا کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دوران سفر میں نفل پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلے کی طرف کر لیتے، پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو جاتا اپنی نماز میں مصروف رہتے۔
(سنن أبي داود، صلاة السفر، حدیث: 1225)