حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ، قَالَ : فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ : ابْنُ نُقَيْرِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی ، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی : «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے ، اور میرے رزق میں برکت دے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا ؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے “، آپ نے فرمایا: ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3500]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے “، آپ نے فرمایا: ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3500]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے۔
نوٹ:
دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ’’سعید بن ایاس جریری‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور ’’عبد الحمید الھلالی‘‘ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفسِ اس دعا کے الفاظ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت سے تقویت پا کردعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: (غایة المرام رقم: 112)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے۔
نوٹ:
دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ’’سعید بن ایاس جریری‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور ’’عبد الحمید الھلالی‘‘ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفسِ اس دعا کے الفاظ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت سے تقویت پا کردعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: (غایة المرام رقم: 112)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3500 سے ماخوذ ہے۔