حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ ، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ ، اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ لِي فَرَاغًا فِيمَا تُحِبُّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ اسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُمَاشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے : «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ” اے اللہ ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر ، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے ، اے اللہ ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2491 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1172) // , شیخ زبیر علی زئی: (3491) إسناده ضعيف, سفيان بن وكيع:ضعيف (تقدم:3082)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9676) (ضعیف) (سند میں ’’ سفیان بن وکیع ‘‘ متروک الحدیث ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3491]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میرا پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے۔

نوٹ:
(سند میں ’’سفیان بن وکیع‘‘ متروک الحدیث ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3491 سے ماخوذ ہے۔