حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ : " قُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، مَنْ قَالَهَا مَرَّةً كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا ، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كُتِبَتْ لَهُ مِائَةً ، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةً كُتِبَتْ لَهُ أَلْفًا ، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : «سبحان الله وبحمده» کہا کرو ، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا ، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3470
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا، الضعيفة (4067) // ضعيف الجامع الصغير (4119) // , شیخ زبیر علی زئی: (3470) إسناده ضعيف جدًا, داود بن الزبرقان: متروك إلخ (تقدم: 3207) و روي النسائي بسند آخر عن مطر الوراق عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”اذكروا عبادالله فإن العبد إذا قال: سبحان الله وبحمده، كتب الله له بها عشرًا ، ومن عشر إلى مائة ومن مائة ألف فمن زاد زاد الله له ومن استغفر غفر الله له۔“ عمل اليوم والليلة:160، السنن الكبري 8899) وسنده حسن وهو يغني عنه
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 62 (160) ( تحفة الأشراف : 8446) (ضعیف جداً) (سند میں مطر الوراق بہت زیادہ غلطیاں کیا کرتے تھے، اور داود بن زبرقان متروک راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: «سبحان الله وبحمده» کہا کرو، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3470]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں مطر الوراق بہت زیادہ غلطیاں کیا کرتے تھے، اور داود بن زبرقان متروک راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3470 سے ماخوذ ہے۔