حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایک دن میں سو بار کہا : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎ ، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا ، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی ، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی ، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3468]
وضاحت:
1؎:
کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف، وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3798]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ذکر ثواب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(2)
بعض اذکار مالی صدقات و خیرات سے زیادہ ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔
(3)
مسنون ذکر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
(4)
مسنون اذکار میں اس قدر برکات و فوائد موجود ہیں کہ ان کے ساتھ مزید اذکار ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔
اور اپنے بنائے ہوئے اذکار ثواب کا باعث بھی نہیں۔
(1)
ہر نقص سے اللہ تعالیٰ کو پاک قرار دینا جو اس کے شایان شان نہ ہو تسبیح کہلاتا ہے۔
اس سے شریک، بیوی اور اولاد کی نفی خود بخود لازم آتی ہے۔
بعض اوقات تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر اور صلاۃ نافلہ بھی ہے۔
نماز تسبیح کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس میں تسبیحات بکثرت ہوتی ہیں۔
(فتح الباري: 247/11) (2)
واضح رہے کہ اس سے وہ گناہ معاف ہوتے ہیں جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے کیونکہ حقوق العباد تو صاحب حق کی رضا مندی کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
(3)
یہ وظیفہ دن کے کسی وقت میں بھی پڑھا جا سکتا ہے، خواہ ایک مرتبہ سو کی گنتی پوری کر لی جائے یا متفرق اوقات میں سو بار پڑھ لیا جائے ان کی وہی فضیلت ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ شروع دن میں ایک ہی مرتبہ سو بار کہہ لے۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ہاں افضل اور اسے سب سے پسندیدہ چار کلمے ہیں: سبحان الله، والحمدلله، و لا إله إلا الله، والله أكبر۔
ان میں سے جسے بھی تم پہلے پڑھ لو تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الآداب، حدیث: 5601 (2137)
ایک دوسری حدیث میں ہے: سبحان الله والحمدلله ولا إله إلا الله والله أكبر۔
پڑھ لینا مجھے پوری کائنات کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6847 (2695)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی روزانہ ایک ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے؟‘‘ آپ کی مجلس میں شریک ایک شخص نے کہا: ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’سو مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6852 (2698)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1355]
➋ یہ رب کریم کا کرم ہے کہ چھوٹے سے کام پر عظیم جزا سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ عظیم خوشخبری اس شخص کے لیے ہے جو اس عمل پر ہمیشگی کرتا ہے اور اس پر ہمیشگی خوش بخت مومن ہی کر سکتا ہے۔ اللھم! اجعلنا منھم۔
➌ سمندر کی جھاگ کنایہ ہے بے انتہا سے۔ ہمارے علم کے لحاظ سے سمندر کی جھاگ بے انتہا ہی ہے۔ اسے کثرت بھی کہا: جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3812]
فوائد و مسائل:
اس قسم کی نیکیوں سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، بڑے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔