حدیث نمبر: 3463
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجُلَسَائِهِ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ " فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ : " يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ تُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ وَتُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ سَيِّئَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے ؟ “ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا : ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا ( یعنی سبحان اللہ ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3463
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2698) ( تحفة الأشراف : 3933) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2698 | مسند الحميدي: 80

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 80 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
80- مصعب بن سعد اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کیا کوئی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ وہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمایا کرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے حضرات میں سے کسی نے عرض کیا: کوئی شخص روانہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 100 مرتبہ سبحان اللہ پڑھے، 100 مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ ایک ہزار نیکیاں ہو جائیں گی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:80]
فائدہ:
اس حدیث میں سبحان اللہ اور اللہ اکبر کے ذکر کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سو بار سبحان اللہ یا سو بار اللہ اکبر کہنے سے ایک ہزار نیکی ملتی ہے۔ سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے، اور الحمد للہ ترازو کو بھر دیتا ہے، اور سبحان اللہ والحمد للہ کہنا ترازو کو بھر دیتا ہے، یا فرمایا: آسمانوں اور زمین کے درمیانی حصے کو بھر دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 223)
اس حدیث کی شرح میں مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں: نیز مذکورہ اذکار کی فضیات اور اجر کا بیان ہے کہ ان کلمات کو اگر جسم عطا کیا جائے تو ترازو آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے کو بھر دے گا، یہ گویا اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی وسعت اور اس کی بے پایاں رحمت کا بیان ہے۔ (ریاض الصالحین: 342/2)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 80 سے ماخوذ ہے۔