حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِمَا رَأَى ، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُهُ ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " . وفي الباب ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَابْنُ الْهَادِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ الْمَدِينِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ وَالنَّاسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جب کوئی اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو سمجھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور جو دیکھا ہوا سے لوگوں سے بیان کرے ، اور جب خراب اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے ، تو یہ چیز اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے ، ۲- ابن الہاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد مدینی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان سے امام مالک اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں ابوقتادہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3453
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 262) ، صحيح الجامع (549 - 550)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/التعبیر 3 (6985) ، و46 (7045) ( تحفة الأشراف : 4092) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6985 | صحيح البخاري: 7045

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7045 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7045. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالی کی تعریف کرے اور اسے بیان کرے۔ اور اگر اس کے اس کے سوا دیکھے جسے وہ برا خیال کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اسے چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ اس طرح وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہیں دے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7045]
حدیث حاشیہ:

برے خواب کے آداب حسب ذیل ہیں جسے ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔

تین دفعہ بائیں جانب تھوتھوکرے۔

شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔

اپنا پہلوفوراً بدل لے۔

یہ خواب کسی سے بیان نہ کرے۔

دو رکعت نماز ادا کرے۔
اس کی صراحت ایک دوسری حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5900(2263)

واضح رہے کہ دروغ گوئی (جھوٹ بولنا)
حرام کمائی اور گناہوں کا ارتکاب برے خواب آنے کا باعث ہے اور راست بازی (سچ بولنا)
حلال کمائی نیکیوں کا اہتمام اچھے خواب کا ذریعہ ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7045 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6985 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6985. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے لہذا وہ اس وقت اللہ کی حمد وثنا کرے اور اسے کسی سے بیان کرے۔ اور اگر اس کے برعکس کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ اسکے شر سے اللہ تعالٰی کی پناہ مانگے اور کسی سے اس خواب کا ذکر نہ کرے، اس طرح یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہچنا سکے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6985]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے: ’’اچھا خواب کسی عالم یا خیر خواہی کو بیان کرے۔
‘‘ (جامع الترمذي، تعبیر الرؤیا، حدیث: 2278)
ایک روایت میں ہے: ’’اگر کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین دفعہ بائیں طرف تھوک دے۔
شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور فوراً اپنا پہلو بدل لے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5904(2262)
ایک روایت میں ہے: ’’اس وقت اُٹھ کر نماز ادا کرے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5905(2263)

ان روایات سے اچھے اور بُرے خواب کے آداب بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: اچھے خواب دیکھنے کے آداب: اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے۔
یہ خوشخبری دوسروں کو سنائے۔
فرحت، مسرت کا اظہار کرے، عام لوگوں کو بتانے کے بجائے وہ کسی خیر خواہ دوست اور ماہر تعبیر عالم دین کو بتائے۔
بُرے خواب دیکھنے کے آداب: تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوک دے۔
شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔
فوراً اپنا پہلو بدل لے، اس قسم کاخواب کسی سے بیان نہ کرے۔
اس وقت اٹھ کر نماز پڑھے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر خواب کی خلقت اور روئیت تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے مگر بُرے خواب کا سبب چونکہ شیطان کی دراندازی ہے اس لیے ایسے خواب کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ انسانوں کو پریشان کرنے کے لیے اس قسم کے تصرفات سے کام لیتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6985 سے ماخوذ ہے۔