سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ، باب: بجلی کی گرج سنے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے : «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ” اے اللہ ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار ، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر ، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بجلی کی گرج سنے تو کیا کہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ” اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3450]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ” اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3450]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تواپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے۔
نوٹ:
(سند میں ابو مطر مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تواپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے۔
نوٹ:
(سند میں ابو مطر مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3450 سے ماخوذ ہے۔