سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا ذُكِرَ فِي دَعْوَةِ الْمُسَافِرِ باب: مسافر کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " ،´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں : مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا ، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں “ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُقَالُ لَهُ : أَبُو جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنُ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ ، وَلَا نَعْرِفُ اسْمَه .´ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے` اسی سند کے ساتھ ، اسی جیسی حدیث روایت کی ، انہوں نے اس حدیث میں «ثلاث دعوات مستجابات» کے الفاظ بڑھائے ہیں ، ( یعنی بلاشبہہ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے )
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ۔
۲- اور ابو جعفر رازی کا نام میں نہیں جانتا ، ( لیکن ) ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1536]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
فوائد و مسائل:
(1)
مظلوم تنگ آکر ظالم کو جو بد دعا دیتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
اس لئے کسی انسان یا حیوان پر ظلم کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔
(2)
بعض اوقات کسی حکمت کی بنا پر مظلوم کی دعا کی قبولیت میں دیر ہوسکتی ہے۔
اس صورت میں صبر کرنا چاہیے صبر سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
نیز مصیبت اور تکلیف کے وقت صبرکرنے سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔
اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔
اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔
جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔