حدیث نمبر: 3446
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ { 13 } وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ { 14 } سورة الزخرف آية 13-14 ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ، سُبْحَانَكَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ " ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ` میں علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا ، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا ، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا : «بسم اللہ» ” میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں “ اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا : «الحمد للہ» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں “ ، پھر آپ نے یہ آیت : «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ” پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے ، لگام دے سکتے ، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں “ ، پڑھی ، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا ، اور تین بار «اللہ اکبر» کہا ، پھر یہ دعا پڑھی : «سبحانك إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” پاک ہے تو اے اللہ ! بیشک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے “ ، پھر علی رضی الله عنہ ہنسے ، میں نے کہا : امیر المؤمنین کس بات پر آپ ہنسے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا ہے ، پھر آپ ہنسے ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کس بات پر ہنسے ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارا رب اپنے بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور ذات نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ صرف اونٹنی کے ساتھ خاص نہیں ہے، کسی بھی سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنی مسنون ہے، خود باب کی دونوں حدیثوں میں اونٹنی کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ دوسری حدیث میں تو سواری کا لفظ ہے، کسی بھی سواری پر صادق آتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3446
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الكلم الطيب (172 / 126) ، صحيح أبي داود (2342)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الجھاد 81 (2602) ( تحفة الأشراف : 10248) (صحیح) (سند میں ابواسحاق مختلط راوی ہیں، اس لیے اس کی روایت میں اضطراب کا شکار بھی ہوئے ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود رقم 2342)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2602

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اونٹنی پر سوار ہو تو کیا پڑھے؟`
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں ، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3446]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ صرف اونٹنی کے ساتھ خاص نہیں ہے، کسی بھی سواری پرسوار ہوتے وقت یہ دعاء پڑھنی مسنون ہے، خود باب کی دونوں حدیثوں میں ’’اونٹنی‘‘ کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ دوسری حدیث میں تو’’سواری‘‘ کا لفظ ہے، کسی بھی سواری پر صادق آتا ہے۔

2؎:
پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں۔

3؎:
پاک ہے تو اے اللہ! بے شک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے، کیوں کہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابو اسحاق مختلط راوی ہیں، اس لیے اس کی روایت میں اضطراب کا شکار بھی ہوئے ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبي داؤد رقم: 2342)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3446 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2602 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سواری پر چڑھتے وقت سوار کیا دعا پڑھے؟`
علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ «الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2602]
فوائد ومسائل:
اسلام انسان کا مذاج ایسا بنا دینا چاہتا ہے۔
کہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس سے وہ اپنے خالق ومالک سے غافل ہو۔
چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے۔
اور اسی طرح جس طرح رسول اللہ ﷺنے کر کے دیکھایا ہے۔
اسے بقدر امکان اختیار کیا جائے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2602 سے ماخوذ ہے۔