سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مِنْهُ باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ : اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو ، ( اللہ اکبر کہتے رہو ) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا : «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ” اے اللہ ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ” میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو، (اللہ اکبر کہتے رہو) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا: «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ” اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3445]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ” میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2771]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ سے ڈرنے اور تقوی کو پیش نظر رکھنے کی ہر جگہ ضرورت ہوتی ہے لیکن جہاد میں اس کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ خلوص نیت اطاعت امیر جہاد کی مشکلات پر صبر اور مال غنیمت میں خیانت سے اجتناب وغیرہ جیسے مشکل معاملات پر آسانی سے عمل ہوسکے۔
(2)
عام سفر میں بھی بلند جگہ پر الله اكبر اور نیچے اترتے ہوئے سبحان الله كہنا مسنون ہے۔ (صحيح البخاري، الجهاد، باب التكبير إذا علا شرفاً، حديث: 2994)