حدیث نمبر: 3441
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدْرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی ( سواری ) کو ( اپنے وطن ) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ محبت مدینہ کے ساتھ خاص بھی ہو سکتی ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے وطن (گھر) سے محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنے گھر جلد پہنچنے کی چاہت میں اسی طرح جلدی کرے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر پہنچنے کے لیے کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العمرة 17 (1802) ، وفضائل المدینة بعد 10 (1886) ( تحفة الأشراف : 574) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1802 | صحيح البخاري: 1886

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفر سے لوٹے تو کیا دعا پڑھے؟`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی (سواری) کو (اپنے وطن) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3441]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ محبت ’’مدینہ‘‘کے ساتھ خاص بھی ہو سکتی ہے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے وطن (گھر)سے محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنے گھر جلد پہنچنے کی چاہت میں اسی طرح جلدی کرے جس طرح نبی اکرمﷺاپنے گھر پہنچنے کے لیے کرتے تھے (بہرحال یہ سنت عادت ہو گی، نہ کہ سنت عبادت)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3441 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1886 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1886. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے واپس آتے اور مدینہ طیبہ کی دیواریں دیکھتے تو اس کی محبت کے باعث اپنی سواری کوتیز چلاتے اور اگر کسی اور سواری پر سوار ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1886]
حدیث حاشیہ: رسول اللہ ﷺ مکی تھے آپ ﷺ کا آبائی وطن مکہ تھا مگر مدینہ تشریف لے جانے کے بعد آپ ﷺ نے اسے اپنا حقیقی مستقر بنا لیا اور اس کی آبادی و ترقی میں اس قدر کوشاں ہوئے کہ اہل مدینہ کے رگ و ریشہ میں آپ ﷺ کی محبت بس گئی اور اہل مدینہ اوس اور خزرج نے کبھی تصور بھی نہیں کیا کہ آپ ﷺ ایک دوسری جگہ کے باشندے ہیں اور مہاجر کی شکل میں یہاں تشریف لائے ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے پیارے رسول رسول اللہ ﷺ کی اقتداءمیں جس ملک میں بھی گئے۔
اسی کے باشندے ہو گئے اوراس ملک میں اپنی مساعی سے چار چاند لگا دیئے اور ہمیشہ کے لیے اسی ملک کو اپنا وطن بنا لیا۔
ایسے صدہا نمونے آج بھی موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1886 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1886 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1886. حضرت انس ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے واپس آتے اور مدینہ طیبہ کی دیواریں دیکھتے تو اس کی محبت کے باعث اپنی سواری کوتیز چلاتے اور اگر کسی اور سواری پر سوار ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1886]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کا نتیجہ ہے کہ وہاں کھانے پینے کی ایک ہی چیز سے ایسی سیرابی حاصل ہوتی ہے کہ دوسرے شہروں میں اس طرح کی دو تین چیزیں کھانے سے بھی نہیں ہوتی۔
(2)
اگر سوال ہو کہ اس دعا کے تقاضے کے مطابق مدینہ طیبہ (مسجد نبوی)
میں نماز کا ثواب بھی مکہ مکرمہ (مسجد حرام)
میں نماز کے ثواب سے دوگنا ہونا چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد دنیا کی برکت ہے جیسا کہ صاع اور مد کی برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے یا اس برکت سے خارجی دلیل کی وجہ سے نماز کو خاص کر لیا گیا ہے۔
عثمان بن عمر کی متابعت کو کتاب علل حدیث الزھری میں متصل سند سے بیان کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 127/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1886 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1802 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1802. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے مدینہ طیبہ واپس آتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو (فرط شوق سے) اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے۔ اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے بھی ایڑی لگاتے۔ ابوعبد اللہ (امام بخاری ؒ)نے کہاکہ حارث بن عمیر نے حمید ہی کے طریق سے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ کی محبت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ اسماعیل نے حمید سےدرجات كےبجائے جدرات کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (اور) یہ الفاظ بیان کرنے میں حارث بن عمیر نے اسماعیل کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1802]
حدیث حاشیہ: حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس طرز عمل سے وطن کی محبت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، اس جگہ سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، سفر میں بھی اپنے وطن کا اشتیاق باقی رہتا ہے۔
الغرض وطن سے محبت ایک قدرتی بات ہے اور اسلام میں یہ مذموم نہیں ہے مشہور مقولہ ہے حب الوطن من الإیمان وطنی محبت بھی ایمان میں داخل ہے۔
جدرات یعنی مدینہ کے گھروں کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ ﷺ سواری تیز فرما دیتے تھے۔
بعض روایتوں میں دوحات کا لفظ آیا ہے یعنی مدینہ کے درخت نظر آنے لگتے تو آپ ﷺ اپنے وطن کی محبت میں سواری تیز کردیتے۔
آپ حج کے یا جہاد وغیرہ کے جس سفر سے بھی لوٹتے اسی طرح اظہار محبت فرمایا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1802 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1802. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے مدینہ طیبہ واپس آتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو (فرط شوق سے) اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے۔ اگر کوئی اور سواری ہوتی تو اسے بھی ایڑی لگاتے۔ ابوعبد اللہ (امام بخاری ؒ)نے کہاکہ حارث بن عمیر نے حمید ہی کے طریق سے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ کی محبت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ اسماعیل نے حمید سےدرجات كےبجائے جدرات کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ (اور) یہ الفاظ بیان کرنے میں حارث بن عمیر نے اسماعیل کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1802]
حدیث حاشیہ:
(1)
جس روایت میں درجات المدينة کے بجائے جدرات المدينة ہے اس کے معنی مدینہ کی عمارتیں ہیں۔
جب رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ کی عمارتیں اور مکانات نظر آتے تو فراوانئ شوق کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے، اس سے مدینہ طیبہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز اس سے وطن کی محبت اور اس سے تعلق خاطر (دلی لگاؤ)
کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے۔
(2)
انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس جگہ سے محبت ایک فطری امر ہے۔
اسلام میں یہ محبت مذموم نہیں، البتہ اس کے متعلق یہ حدیث بالکل بے اصل ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
(فتح الباري: 783/3)
جدرات المدینہ والی روایت خود امام بخاری ؒ نے متصل سند سے بیان کی ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1886)
اسی طرح حارث بن عمیر کی متابعت کو امام احمد نے موصولا بیان کیا ہے۔
(مسندأحمد: 159/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1802 سے ماخوذ ہے۔