سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا يَقُولُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ باب: سفر سے لوٹے تو کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ : آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے : «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں ، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں ، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں ، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے ، ۳- اس باب میں ابن عمر ، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” (ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے) واپس آنے والے ہیں، ہم (اپنے رب کے حضور) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3440]
وضاحت:
1؎: (ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے) واپس آنے والے ہیں، ہم (اپنے رب کے حضور) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں۔