سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلاً باب: آدمی جب کسی منزل پر اترے تو کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ بَلَغَهُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ هَذَا الْحَدِيثُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَيَقُولُ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَ : وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَجْلَانَ .´خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ” میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے “ ، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ ( یعنی : مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے )
۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے ، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے ، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ” میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے “، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3437]
وضاحت:
1؎:
میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے۔
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3547]
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں کسی مقام پر دوپہر یا رات کو آرام کرنے کےلئے رکنا پڑے تو جانوروں کو بٹھا کر سامان اٹھا کر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔
(2)
کسی ہوٹل میں ٹھرتے وقت بھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر یہ دعا پڑھ لیں۔
(3)
اللہ کی تعریف کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائےحسنیٰٰ اور صفات مقدسہ کے ذکر میں بہت برکات ہیں۔
(4)
اللہ کی صفات کی پناہ لینے سے مراد اللہ کی ذات کی پناہ ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔