حدیث نمبر: 3424
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ ، فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي وَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا ، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ لِي جَدُّكَ ، : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سویا ہوا تھا ، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں ، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا ، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا : «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ” اے اللہ ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے ، اور اس کے عوض مجھ پر سے ( گناہوں کا ) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس ( میرے لیے آخرت کا ) ذخیرہ بنا دے ، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا “ ۔ ابن جریج کہتے ہیں : مجھ سے تمہارے ( یعنی حسن بن عبیداللہ کے ) دادا ( عبیداللہ ) نے کہا کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) سجدہ کی ایک آیت پڑھی ، پھر سجدہ کیا ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : میں نے آپ کو ( سجدہ میں ) پڑھتے ہوئے سنا آپ وہی دعا پڑھ رہے تھے ، جو ( خواب والے ) آدمی نے آپ کو درخت کی دعا سنائی تھی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اللہ کی طرف سے احکام و مسائل بتانے کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے تھے، ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ اللہ کسی صحابی کو خواب دکھاتا، اس میں فرشتہ کوئی مسئلہ بتاتا اور وہ صحابی بیدار ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کرتا، آپ اس کی تقریر (تصدیق) کر دیتے، جیسے اذان میں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1053)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 579 (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 579

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3424]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر وثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (میرے لیے آخرت کا) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبو ل کیا تھا۔

2؎:
اللہ کی طرف سے احکام ومسائل بتانے کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے تھے، ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ اللہ کسی صحابی کو خواب دکھاتا، اس میں فرشتہ کوئی مسئلہ بتاتا اور وہ صحابی بیدار ہو کر اللہ کے رسول ﷺسے ذکر کرتا، آپﷺ اس کی تقریر (تصدیق) کر دیتے، جیسے اذان میں ہوا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3424 سے ماخوذ ہے۔