سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ باب: رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ ، وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَة .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ` عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے ، اور سو ہزار ( یعنی ایک لاکھ ) تسبیحات پڑھتے تھے ، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، ۱۲۷ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟`
مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار (یعنی ایک لاکھ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3415]
مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار (یعنی ایک لاکھ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3415]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، 127ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
نوٹ:
(سند میں ’’مسلمہ بن عمرو شامی‘‘ مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، 127ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
نوٹ:
(سند میں ’’مسلمہ بن عمرو شامی‘‘ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3415 سے ماخوذ ہے۔