حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ : يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ چیزیں نماز کے پیچھے ( بعد میں ) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا ، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے ، ۳۳ بار الحمدللہ کہے ، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے ، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3412
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (102) (هذا حديث زيد بن ثابت فى نسخة الدعاس فى التسبيح والتحميد والتكبير والتهليل)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1350 | صحيح مسلم: 596

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1350 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔`
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1350]
1350۔ اردو حاشیہ: ناکام نہیں ہوتا۔ یعنی جس طرح بھی پڑھے ثواب ضرور ملتا ہے، خواہ کچھ غفلت بھی ہو جائے۔ یا جنت میں ضرور داخل ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1350 سے ماخوذ ہے۔