سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ عِنْدَ الْمَنَامِ باب: سوتے وقت سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3409
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو مَجَلًا بِيَدَيْهَا فَأَمَرَهَا بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ( آپ کی بیٹی ) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح ( سبحان اللہ ) تکبیر ( اللہ اکبر ) اور تحمید ( الحمدللہ ) پڑھنے کا حکم دیا ۔