سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مِنْهُ باب: سوتے وقت قرآن پڑھنے سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ : بِتَنْزِيلُ السَّجْدَةِ ، وَبِتَبَارَكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَقَدْ رَوَى زُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ ؟ قَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ جَابِرٍ ، إِنَّمَا سَمِعْتُهُ مِنْ صَفْوَانَ أَوْ ابْنِ صَفْوَانَ ، وَقَدْ رَوَى شَبَابَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ حَدِيثِ لَيْثٍ .´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورۃ «سجدہ» اور سورۃ «تبارک الذی» ( یعنی سورۃ الملک ) پڑھ نہ لیتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- سفیان ( ثوری ) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے ، لیث نے ابوالزبیر سے ، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ، ۲- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے ( خود ) سنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے ، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے ، ۳- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے ، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2892]
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 585)