حدیث نمبر: 3397
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ وَرَقِ الشَّجَرِ ، وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ عَدَدَ أَيَّامِ الدُّنْيَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْوَصَّافِيِّ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے : «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ” میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے ، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں “ ، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بےشمار ) ہوں ، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں ، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں ، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3397
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الكلم الطيب (39) ، التعليق الرغيب (1 / 211) // ضعيف الجامع الصغير (5728) // , شیخ زبیر علی زئی: (3397) إسناده ضعيف, عطية العوفي : ضعيف (تقدم:477)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4214) (ضعیف) (سند میں ’’ عطیہ عوفی ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بےشمار) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3397]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: میں اُس عظیم ترین اللہ سے استغفارکرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تاابد قائم ودائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

نوٹ:
(سند میں ’’عطیہ عوفی‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3397 سے ماخوذ ہے۔