سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ باب: آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3396
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے : «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو ( مخلوق کے شر سے ) اور ہم کو ( رہنے سہنے کے لیے ) ٹھکانا دیا ، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3396]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3396]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو (مخلوق کے شر سے) اور ہم کو (رہنے سہنے کے لیے) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3396 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2715 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر قرار پکڑتے، یہ دعا پڑھتے"حمدو شکر کا حقدار اللہ ہے جس نے ہمیں کھلا یا اور پلایا اور ہماری ضرورتیں پوری کیں اور ہمیں ٹھکانا دیا سو کتنے ہی بندے ہیں۔ جن کا نہ کوئی ضروریات پوری کرنے والا ہے اور نہ انہیں ٹھکانا دینے والا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6894]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ہم جو کھاتے پیتے ہیں، جو ٹھکانے ہمیں میسر ہیں اور ہماری ضروریات پوری ہو رہی ہیں، یعنی جو کچھ ہمیں مل رہا ہے، وہ سب ہمارے رب مہربان کا عطیہ ہے اس لیے وہی حمدو شکر کا حقدار ہے، اس طرح اس اعتراف حقیقت اور دعا کے ذریعہ ہم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر سکتے ہیں، جن سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2715 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5053 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5053]
فوائد ومسائل:
بندے کو اللہ عزوجل کی ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور بالخصو ص محروم لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ جھکنا چاہیے۔
بندے کو اللہ عزوجل کی ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اور بالخصو ص محروم لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ جھکنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5053 سے ماخوذ ہے۔