حدیث نمبر: 3376
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ دَرَّاجٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں “ ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے ( غازی ) سے بھی بڑھ کر ؟ آپ نے فرمایا : ” ( ہاں ) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو ، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو ، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو ، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف دراج کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 228)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4054) (ضعیف) (سند میں دراج ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ذکر الٰہی سے متعلق ایک اور باب۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں۔‏‏‏‏ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے (غازی) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3376]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دراج ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3376 سے ماخوذ ہے۔