سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الدُّعَاءِ باب: دعا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3370
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ هُوَ ابْنُ دَاوَرَ وَيُكْنَى أَبَا الْعَوَّامِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز ( عبادت ) نہیں ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں ، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجزی و محتاجگی کا اظہار کرتا ہے، اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن مہدی نے` عمران القطان سے اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دعا کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3370]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3370]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے، اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے، اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3370 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3829 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دعا کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3829 سے ماخوذ ہے۔