سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب مِنْهُ باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ ، فَخَلَقَ الْجِبَالَ ، فَعَادَ بِهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ ، فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ ، قَالُوا : يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الْحَدِيدُ ، قَالُوا : يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، النَّارُ ، فَقَالُوا : يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الْمَاءُ ، قَالُوا : يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الرِّيحُ ، قَالُوا : يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، ابْنُ آدَمَ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا : اسے تھامے رہو ، تو زمین ٹھہر گئی ، ( اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا ) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، لوہا ہے “ ، انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، آگ ہے “ ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، پانی ہے “ ، انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے ؟ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، ہوا ہے “ ، انہوں نے عرض کیا : اے ہمارے رب ! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے ۔ اللہ نے فرمایا : ” ہاں ، ابن آدم ہے جو اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دیتا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہونے پاتی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا: اسے تھامے رہو، تو زمین ٹھہر گئی، (اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: " ہاں، لوہا ہے "، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: " ہاں، آگ ہے "، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3369]
نوٹ:
(سند میں سلیمان بن ابی سلیمان الھاشمی لین الحدیث راوی ہیں)