سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ باب: معوذتین سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَإٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ ، فَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، قَالُوا : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ : اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ، قَالَ : اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي ، وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ ، ثُمَّ بَسَطَهَا ، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَا هَؤُلَاءِ ؟ فَقَالَ : هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَدْ كَتَبْتُ لَهُ عُمْرَ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، قَالَ : يَا رَبِّ زِدْهُ فِي عُمْرِهِ ، قَالَ : ذَاكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ ، قَالَ : أَيْ رَبِّ ، فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً ، قَالَ : أَنْتَ وَذَاكَ ، قَالَ : ثُمَّ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا فَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ : قَدْ عَجَّلْتَ قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ ، قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكِ دَاوُدَ سِتِّينَ سَنَةً ، فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ ، وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ ، قَالَ : فَمِنْ يَوْمِئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونک دی ، تو ان کو چھینک آئی ، انہوں نے «الحمد لله» کہنا چاہا چنانچہ اللہ کی اجازت سے «الحمد لله» کہا ، ( تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں ) پھر ان سے ان کے رب نے کہا : اللہ تم پر رحم فرمائے ، اے آدم ! ان فرشتوں کی بیٹھی ہوئی جماعت و گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے السلام علیکم کہو ، انہوں نے جا کر السلام علیکم کیا ، فرشتوں نے جواب دیا ، وعلیک السلام ورحمۃ اللہ ، پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹ آئے ، اللہ نے فرمایا : یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں طریقہ سلام و دعا ہے ، پھر اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے آدم سے کہا : ان میں سے جسے چاہو پسند کر لو ، وہ کہتے ہیں : میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا ، اور حقیقت یہ ہے کہ میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں اور برکت والے ہیں ، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور آدم کی ذریت تھی ، آدم علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ سب تیری اولاد ہیں اور ہر ایک کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں لکھی ہوئی ہے ، ان میں ایک سب سے زیادہ روشن چہرہ والا تھا ، آدم علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے رب یہ کون ہے ؟ کہا یہ تمہارا بیٹا داود ہے ، میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھ دی ہے ، آدم علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! اس کی عمر بڑھا دیجئیے ، اللہ نے کہا : یہ عمر تو اس کی لکھی جا چکی ہے ، آدم علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دیئے دیتا ہوں ، اللہ نے کہا : تم اور وہ جانو ؟ چلو خیر ، پھر آدم علیہ السلام جنت میں رہے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوا ، پھر آدم علیہ السلام جنت سے نکال باہر کر دیئے گئے ، آدم علیہ السلام اپنی زندگی کے دن گنا کرتے تھے ، ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ تو جلدی آ گئے میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی ہے ، ملک الموت نے کہا : ہاں ( بات تو صحیح ہے ) لیکن آپ نے تو اپنی زندگی کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داود کو دے دیے تھے ، تو انہوں نے انکار کر دیا آدم علیہ السلام کے اسی انکار کا نتیجہ اور اثر ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگ گئی ، آدم علیہ السلام بھول گئے ، ان کی اولاد بھی بھولنے لگ گئی ، اسی دن سے حکم دے دیا گیا ساری باتیں لکھ لی جایا کریں اور گواہ بنا لیے جایا کریں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، اور ابوہریرہ کی اس حدیث کو زید بن اسلم نے بطریق : «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انسان اس کو کیا دیکھ سکتا ہے۔
جو لوگ اس قسم کی احادیث میں شبہ کرتے ہیں ان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت آدم کی صحیح تاریخ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے تو معلوم نہیں کہ حضرت آدم کو کتنے برس گزر چکے ہیں۔
نہ یہ معلوم ہے کہ آئندہ دنیا کتنے برس اور رہے گی اس لئے قد وقامت کا کم ہو جانا قابل انکار نہیں۔
''خلق اللہ آدم علی صورته'' کی ضمیر آدم علیہ السلام کی طرف لوٹ سکتی ہے یعنی آدم کی صور ت پر جو اللہ کے علم میں تھی۔
بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ آدم پیدائش سے اسی صورت پر تھے جس صورت پر ہمیشہ رہے یعنی یہ نہیں ہوا کہ پیدا ہوتے وقت وہ چھوٹے بچے ہوں پھر بڑے ہوئے ہوں جیسا ان کی اولاد میں ہوتا ہے۔
بعض نے ضمیر کو اللہ کی طرف لوٹایا ہے مگر یہ آیت ﴿لَیسَ کَمِثلِهِ شيئ﴾ کے خلاف ہوگا۔
واللہ أعلم بالصواب وآمنا باللہ وبرسوله صلی اللہ علیه وسلم۔
(1) (خلق الله آدم علی صورته)
کے دو مفہوم حسب ذیل ہیں: ٭ حضرت آدم علیہ السلام پیدائش سے اسی شکل و صورت پر تھے جس صورت پر وہ ہمیشہ رہے۔
ایسا نہیں ہوا کہ پیدائش کے وقت وہ چھوٹے ہوں پھر آہستہ آہستہ بڑے ہوتے گئے جیسا کہ ان کی اولاد میں ہوتا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی ذاتی صورت پر پیدا کیا جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی دوسرے کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے بچے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 251/2)
اس کی تائید ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چہروں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ آدم کو رحمٰن کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے۔
‘‘ (السنة لابن أبي عاصم، حدیث: 517)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، تاہم تائید میں پیش کی جا سکتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ''صورة الرحمٰن'' کی تاویل کی ہے کہ اس سے مراد صفت رحمٰن ہے۔
(فتح الباري: 6/11)
لیکن یہ طریقہ اسلاف کے منہج کے خلاف ہے۔
سلف کے نزدیک کسی قسم کی تاویل کرنے تکییف اور تمثیل، یعنی کیفیت بیان کرنے یا مخلوق کی صورت کے مشابہ قرار دینے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے لیے صفت صورت ثابت ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔
(فتح الباري: 226/5)
اللہ تعالیٰ کی توحید اسماء و صفات کے متعلق مکمل بحث ہم نے آگے کتاب التوحید میں کی ہے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سلام کی ابتدا ثابت کی ہے کہ اس کا آغاز کہاں سے اور کیسے ہوا۔
بہرحال بوقت ملاقات ''السلام علیکم'' سے بہتر کوئی کلمہ نہیں ہے۔
اگر ملنے والے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور ان میں محبت و اخوت یا قرابت کا کوئی تعلق ہے تو اس کلمے میں محبت و مسرت اور اکرام و احترام کا پورا پورا اظہار ہے اور اگر پہلے سے کوئی تعارف نہیں تو یہ کلمہ اعتماد و خیر سگالی کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے ذریعے سے ہر ایک دوسرے کو اطمینان دلاتا ہے کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور ہمارے درمیان ایک روحانی رشتہ اور تعلق ہے۔
سوال: قرآن مجید میں الفاظ «سلام ٌ عليكم"» ہیں۔ اسی طرح صحیح ابن حبان میں بھی ہیں، جیسا کہ امام دمیاطی نے ’’المتجرالرابح" میں نقل فرمایا۔
سوال یہ ہے کہ اکثر لوگ ایک دوسرے کو سلام کرتے وقت «سلامُ عليكم"» کہتے ہیں۔ جب کہ سلام کے حوالے سے اکثر احادیث میں «السلامُ عليكم» کے الفاظ ہیں جیسا کہ امام نووی نے ریاض الصالحین میں اکثر ایسی احادیث کو جمع کر دیا ہے۔
کیا «سلامُ عليكم» کہنا بھی جائز ہے؟
الجواب: «السلامُ عليكم» کہنا زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے۔ مثلاًً دیکھئے: [صحيح بخاري: 6227، صحيح مسلم: 2841 / 7163]
سلام ٌ علیکم بھی صحیح ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ دیکھئے: [سورة الانعام: 54، الاعراف: 46، الزمر: 73]
اسی طرح صرف سلام ٌ اور سلامًا بھی آیا ہے۔ مثلاًً دیکھئے: [سورة هود: 69]
لیکن کسی آیت یا حدیث میں سلامُ علیکم نہیں آیا اور نہ ایسے الفاظ سلف صالحین سے آئے ہیں، لہٰذا «سلامُ عليكم» (یعنی م کی ایک پیش کے ساتھ) نہیں بلکہ «السلام عليكم» کہنا چاہئے جو کہ مسنون ہے۔
یاد رہے کہ سلام کہناسنت ہے اور اس کا جواب دینا ضروری (فرض وواجب) ہے، لہٰذا سلام کہنے والے کا جواب بھی صحیح اور بہتر طریقے سے دینا چاہئے۔ مثلاًً «السلام عليكم» کا «وعليكم السلام ورحمة الله» یا «وعليكم السلام» کے الفاظ سے جواب دینا چاہئے۔
جو لوگ سلام کے جواب میں صرف سر ہلا کر یا مسنون الفاظ کے بغیر جواب دیتے ہیں، وہ سخت غلطی پر ہیں، بلکہ گناہ کے مرتکب ہیں۔
فائدہ: «السلام عليكم و رحمة الله و بركاته» کہنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 5195 وسنده حسن، سنن الترمذي: 2689 و قال: حسن صحيح غريب]
اصل مضمون کے لئے دیکھئے توضیح الاحکام (ج 3 ص 278 اور 279)
نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو (شمارہ 84 صفحہ 12)
ابن قتیبہ نے کہا کہ آدم بے ریش و بروت تھے، گھونگروالے بال اور نہایت خوبصورت تھے۔
قسطلانی نے کہا بہشتی سب ان ہی کی صورت اور حسن و جمال کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں جو رنگ کی سیاہی یا بدصورتی ہے وہ جاتی رہے گی۔
یا اللہ راقم کو بھی بایں صورت جنت کا داخلہ نصیب کیجےؤ اور ان سب بھائیوں مردوں عورتوں کو بھی جو بخاری شریف کا یہ مقام مطالعہ فرماتے وقت باآواز بلند آمین کہیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی کو ایسی بددعا نہیں دینی چاہیے جس کا تعلق چہرے کے ساتھ ہو، بعض لوگ جب کسی کا عیب بیان کرتے ہیں تو اس کی شکل وصورت کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں، لمبے ناک والا، اونچی پیشانی والا، لمبے دانتوں والا وغیرہ۔
اگر انسان غور کرے تو ان چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، جیسے اس نے چاہا بنا دیا، اس میں کسی کا کوئی کمال نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں عیب نکالنا بڑی جرٱت اور بہت بڑا جرم ہے "ہےکوئی اللہ کی مثل کچھ بنانے والا" کسی انسان کی شکل و صورت میں عیب نکالنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر عیب جوئی ہے۔
اس حدیث میں صرف چہرے کا ذکر ہے، اور اس سے چہرے کا محترم ہونا ثابت ہوتا ہے، جسم کے کسی بھی عضو کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے، نیز چہرے پر مارنا بھی منع ہے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
«فـان الله خلق آدم على صورته» سے بعض کا یہ مراد لینا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے، باطل مردود ہے، بلکہ صحيح وہی ہے جو مترجم نے حدیث کا ترجمہ کیا ہے، یقینا اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا ہے۔