حدیث نمبر: 3361
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَجْرَاهُ عَلَى الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ ، تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ ، وَمَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ " . قال : هذا حديث حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «الكوثر» جنت میں ایک نہر ہے ، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں ، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے ، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4334)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 39 (4334) ( تحفة الأشراف : 1154) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4334

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4334 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و موتی پر ہو گی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4334]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
کوثر کا مطلب خیر کثیر ہے اس میں وہ تمام خصائص و فضائل شامل ہے۔
جو نبیﷺ کو حاصل ہوئے اور حاصل ہوں گے۔
اس میں حوض کوثر بھی شامل ہے جو میدان حشر میں ہوگا۔
اور جنت کی وہ نہر بھی جس سے حوض کوثر میں پانی آئیگا۔

(2)
جنت کی نہر دنیا کی نہر سے اسی طرح عظیم اور ممتاز ہے۔
جس طرح جنت کی دوسری نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے مختلف ہیں۔

(3)
نہر کوثر کی تہہ میں کنکروں اور پتھروں کی بجائے یاقوت جیسے قیمتی پتھر اور موتِی ہوں گے جس سے اس کا منظر اور دلکش ہو جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4334 سے ماخوذ ہے۔