حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْعَبْدَ مِنَ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ : أَلَمْ نُصِحَّ لَكَ جِسْمَكَ وَنُرْوِيَكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَالضَّحَّاكُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ عَرْزَمٍ ، وَابْنُ عَرْزَمٍ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، ( وہ یہ ہیں ) اس سے کہا جائے گا : کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا ؟ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ضحاک ، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے ، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (539) ، المشكاة (5196)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 13511) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2038 | سنن ترمذي: 3357 | سنن ابن ماجه: 3180

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3357 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں (ایک کھجور دوسرا پانی) (ہمارا) دشمن (سامنے) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎۔ آپ نے فرمایا: (تمہیں ابھی معلوم نہیں) عنقریب ایسا ہو گا (کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3357]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہمیں لڑنے مرنے سے فرصت کہاں کہ ہمارے پاس طرح طرح کی نعمتیں ہوں اور ہم ان نعمتوں میں عیش ومستی کریں جس کی ہم سے باز پرس کی جائے۔

نوٹ:
(سند میں ابوبکر بن عیاش کا حافظہ بڑھاپے میں کمزور ہو گیا تھا، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3357 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3180 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3180]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مہمان کی مناسب خدمت کرنا مسلمان کی خوبی ہے۔

(2)
جو گائے بھینس یا بکری وغیرہ دودھ دیتی ہو، اسے ذبح کرنے سے یہ فائدہ ختم ہوجاتا ہے جب کہ گوشت دوسرے جانور سے بھی حاصل ہوسکتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ دودھ نہ دینے والا جانور ذبح کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3180 سے ماخوذ ہے۔