سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ لَمْ يَكُنْ باب: سورۃ «لم یکن» سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3352
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ، قَالَ : " ذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر ! آپ نے فرمایا : ” یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضعاً اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے احتراماً فرمایا تھا، ورنہ آپ خود اپنے فرمان کے مطابق: «سید ولد آدم» ہیں، اور یہی ہمارا عقیدہ ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «أولئك هم خير البرية» (البينة: ۷) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ «لم یکن» سے بعض آیات کی تفسیر۔`
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ” یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3352]
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ” یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3352]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا آپ ﷺنے تواضعاً اورابراہیم علیہ السلام کے لیے احتراماً فرمایا تھا، ورنہ آپﷺ خود اپنے فرمان کے مطابق: (سیدولدآدم) ہیں، اور یہی ہمارا عقیدہ ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ (البينة: 7) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔
وضاحت:
1؎:
ایسا آپ ﷺنے تواضعاً اورابراہیم علیہ السلام کے لیے احتراماً فرمایا تھا، ورنہ آپﷺ خود اپنے فرمان کے مطابق: (سیدولدآدم) ہیں، اور یہی ہمارا عقیدہ ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ (البينة: 7) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3352 سے ماخوذ ہے۔