سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَدْرِ باب: سورۃ القدر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمٍ هُوَ ابْنُ بَهْدَلَةَ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ وَزِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ ، يَقُولُ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ أَخَاكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : " مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي الْعَشَرَةَ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، قَالَ : بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ بِالْعَلَامَةِ أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ لا يَتَكَلَّمُ مَا دَامَ زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ جَالِسًا ، قَالَ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ : وَكَانَ زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ رَجُلا فَصِيحًا ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَرِبِيَّةِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مهْرَانَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بهدلة ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى زِرِّ بْنُ حُبَيْشٍ وَهُوَ يُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مَرْيَمَ أَتُؤَذِّنُ ؟ إِنِّي لأَرْغَبُ بِكً عَنِ الأَذَانِ ، فَقَالَ زِرُّ : أَتَرْغَبُ عَنِ الأَذَانِ ، وَاللهِ لا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا .´زر بن حبیش ( جن کی کنیت ابومریم ہے ) کہتے ہیں کہ` میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہا آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : جو سال بھر ( رات کو ) کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتا رہے وہ لیلۃ القدر پا لے گا ، ابی بن کعب رضی الله عنہ نے کہا : اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے ( ابوعبدالرحمٰن ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی کنیت ہے ) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں ( ۲۷ ) رات ہے ، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں ( ۲۷ ) رات پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری راتوں میں عبادت کرنے اور جاگنے سے باز آ جائیں ، بغیر کسی استثناء کے ابی بن کعب رضی الله عنہ نے قسم کھا کر کہا : ( شب قدر ) یہ ( ۲۷ ) رات ہی ہے ، زر بن حبیش کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : ابوالمنذر ! آپ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اس آیت اور نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ انہوں نے «بالآية» کا لفظ استعمال کیا یا «بالعلامة» کا آپ نے علامت یہ بتائی ( کہ ستائیسویں شب کی صبح ) سورج طلوع تو ہو گا لیکن اس میں شعاع نہ ہو گی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زر بن حبیش (جن کی کنیت ابومریم ہے) کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہا آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: جو سال بھر (رات کو) کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتا رہے وہ لیلۃ القدر پا لے گا، ابی بن کعب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے (ابوعبدالرحمٰن، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی کنیت ہے) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں (۲۷) رات ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں (۲۷) رات پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری را۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3351]
وضاحت:
1؎:
کئی برسوں کے تجربہ کی بنیاد پرمذکورہ علامتوں کو27/ کی شب منطبق پانے بعد ہی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ دعویٰ کیا تھا اوراس کی سند بھی صحیح ہے، اس لیے آپ کا دعویٰ مبنی برحق ہے، لیکن سنت کے مطابق دس دن اعتکاف کرنا یہ الگ سنت ہے، اور الگ اجروثواب کا ذریعہ ہے، نیز صرف طاق راتوں میں شب بیداری کرنے والوں کی شب قدر تو ملے گی ہے، مزید اجروثواب الگ ہوگا، ہاں! پورے سال میں شب قدرکی تلاش کی بات: یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا اجتہاد ہو سکتا ہے، ویسے بھی شب قدرکا حصول اور اجروثواب تو متعین ہی ہے۔