حدیث نمبر: 3350
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا بَايَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ يَا مُسَوِّدَ وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : لَا تُؤَنِّبْنِي رَحِمَكَ اللَّهُ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَسَاءَهُ ذَلِكَ ، فَنَزَلَتْ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ، يَا مُحَمَّدُ يَعْنِي نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَمْلِكُهَا بَعْدَكَ بَنُو أُمَيَّةَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ الْقَاسِمُ : فَعَدَدْنَاهَا ، فَإِذَا هِيَ أَلْفُ شَهْرٍ لَا يَزِيدُ يَوْمٌ وَلَا يَنْقُصُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَقَدْ قِيلَ : عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ هُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ` ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا : آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی ، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا ، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ ، اللہ تم پر رحم فرمائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی ، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ” اے محمد ! ہم نے آپ کو کوثر دی “ ، نازل ہوئی ۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ” ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے “ ، نازل ہوئیں ، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں : ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ۔
۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے ، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں ، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے ، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: سند میں اضطراب اور مجہول راوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے متن میں سخت نکارت ہے، کہاں آیت کا نزول شب قدر کی فضیلت کے بیان کے لیے ہونا، اور کہاں بنو امیہ کی حدث خلافت؟ یہ سب بےتکی باتیں ہیں، نیز کہاں «إنا أعطيناك الكوثر» کی شان نزول، اور کہاں بنو امیہ کی چھوٹی خلافت۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد مضطرب، ومتنه منكر , شیخ زبیر علی زئی: (3350) إسناده ضعيف, في سماع يوسف من الحسن نظر و باقي السند حسن و الحديث صححه الحاكم (170/3 ،171) وضعفه المزي وابن كثير وغيرهما
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3407) (ضعیف) (سند میں اضطراب ہے، اور متن منکر ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ القدر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، (راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» (مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی ، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3350]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے محمدﷺ! ہم نے آپ کو کوثر دی۔
2؎: ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔
3؎: سند میں اضطراب اورمجہول راوی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے متن میں سخت نکارت ہے، کہاں آیت کا نزول شب قدر کی فضیلت کے بیان کے لیے ہونا، اور کہاں بنوامیہ کی حدث خلافت؟ یہ سب بے تکی باتیں ہیں، نیز کہاں ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ کی شان نزول، اور کہاں بنوامیہ کی چھوٹی خلافت۔

نوٹ:
(سند میں اضطراب ہے، اور متن منکر ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3350 سے ماخوذ ہے۔