سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي سُتْرَةِ الْمُصَلِّي باب: نمازی کے سترے کا بیان۔
حدیث نمبر: 335
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِي مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , وَابْنِ عُمَرَ , وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ , وَأَبِي جُحَيْفَةَ ، وَعَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ طَلْحَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَقَالُوا : سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ خَلْفَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- طلحہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، سہل بن ابی حثمہ ، ابن عمر ، سبرہ بن معبد جہنی ، ابوجحیفہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: سترہ ایسی چیز ہے جسے نمازی اپنے آگے نصب کرے یا کھڑا کرے، خواہ وہ دیوار ہو یاس تون، نیزہ ہو یا لکڑی وغیرہ تاکہ یہ گزرنے والے اور نمازی کے درمیان آڑ رہے، اس کی سخت تاکید ہے، نیز میدان یا مسجد میں اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے، اور خانہ کعبہ میں سترہ کے آگے سے گزرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 685 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 685]
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 685]
685۔ اردو حاشیہ:
معلوم ہوا کہ سترہ نہ رکھنے سے نمازی کو نقصان ہوتا ہے۔ یعنی اس کے خشوع خضوع اور اجر میں کمی ہوتی ہے یا کم از کم اتباع امر کی تقصیر کا نقصان تو واضح ہے اور یہ سترہ کم از کم فٹ یا ڈیڑھ فٹ کے درمیان کوئی چیز ہونی چاہیے۔
معلوم ہوا کہ سترہ نہ رکھنے سے نمازی کو نقصان ہوتا ہے۔ یعنی اس کے خشوع خضوع اور اجر میں کمی ہوتی ہے یا کم از کم اتباع امر کی تقصیر کا نقصان تو واضح ہے اور یہ سترہ کم از کم فٹ یا ڈیڑھ فٹ کے درمیان کوئی چیز ہونی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 685 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 940 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 940]
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 940]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو۔
جہاں عام لوگوں کا اس کے آگے سے گزرنے کا اندیشہ ہو تو سترہ رکھ لینا مسنون ہے۔
(2)
سترہ کس طرح کا، یہ کتنا اونچا ہو۔
؟ اس کی حد اس حدیث سے متعین ہو جاتی ہے۔
کہ وہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا ہو۔
یہ تقریباً سوا یا ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے۔
اس اعتبار سے سترہ کم از کم سوا یا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔
(3)
اس میں اشارہ ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے کوئی شخص گزرے تو نمازی کی نماز متاثر ہوگی۔
اس سے بعض علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ خشوع و خضوع میں فرق پڑتا ہے۔
جب کہ ستر ہ ہونے کی صورت میں نمازی کی توجہ محدود جگہ میں رہتی ہے۔
صحیح مسلم میں ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
که بغیر سترے کے نماز پڑھنے والے کی نماز عورت، گدھے اور کالے کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ (صحیح المسلم، صلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی، حدیث: 510)
سنن ابن ماجہ میں (حدیث: 949)
المرأۃ الحائض کے الفاظ ہیں۔
جس سے مراد بالغ عورت ہے ممکن ہے اس سے یہ مراد ہو۔
کہ عورت ایام حیض میں ہوتو اس کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے ورنہ نہیں لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(4)
شیخ احمد شاکررحمۃ اللہ علیہ (مصری)
نے سنن ابو داؤد کی حدیث (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَئْيٌ)
(سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب من قال لا یقطع الصلاۃ شیئ، حدیث: 719)
’’نماز کسی چیز کے گزرنے سے نہیں ٹوٹتی‘‘کو ان تمام احادیث کا ناسخ قرار دیا ہے۔
اور مزید کہا کہ (سنن دراقطني: 367/3 وسنن الکبريٰ للبہیقي: 278/2)
کی روایت سے اس رائے کی تایئد ہوتی ہے۔
تفصیل کےلے دیکھئے: (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء انه لایقطع الصلاۃ الا الکلب والحمار والمرأۃ، حدیث: 338، حاشہ شيخ احمد شاکر رحمة اللہ علیه)
(4)
سترے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گزرنا چاہے تو سترے سے پرے گزر جائے سترے اور نمازی کے درمیان سے نہ گزرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جب کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو۔
جہاں عام لوگوں کا اس کے آگے سے گزرنے کا اندیشہ ہو تو سترہ رکھ لینا مسنون ہے۔
(2)
سترہ کس طرح کا، یہ کتنا اونچا ہو۔
؟ اس کی حد اس حدیث سے متعین ہو جاتی ہے۔
کہ وہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا ہو۔
یہ تقریباً سوا یا ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے۔
اس اعتبار سے سترہ کم از کم سوا یا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔
(3)
اس میں اشارہ ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے کوئی شخص گزرے تو نمازی کی نماز متاثر ہوگی۔
اس سے بعض علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ خشوع و خضوع میں فرق پڑتا ہے۔
جب کہ ستر ہ ہونے کی صورت میں نمازی کی توجہ محدود جگہ میں رہتی ہے۔
صحیح مسلم میں ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
که بغیر سترے کے نماز پڑھنے والے کی نماز عورت، گدھے اور کالے کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ (صحیح المسلم، صلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی، حدیث: 510)
سنن ابن ماجہ میں (حدیث: 949)
المرأۃ الحائض کے الفاظ ہیں۔
جس سے مراد بالغ عورت ہے ممکن ہے اس سے یہ مراد ہو۔
کہ عورت ایام حیض میں ہوتو اس کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے ورنہ نہیں لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(4)
شیخ احمد شاکررحمۃ اللہ علیہ (مصری)
نے سنن ابو داؤد کی حدیث (لَايَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَئْيٌ)
(سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب من قال لا یقطع الصلاۃ شیئ، حدیث: 719)
’’نماز کسی چیز کے گزرنے سے نہیں ٹوٹتی‘‘کو ان تمام احادیث کا ناسخ قرار دیا ہے۔
اور مزید کہا کہ (سنن دراقطني: 367/3 وسنن الکبريٰ للبہیقي: 278/2)
کی روایت سے اس رائے کی تایئد ہوتی ہے۔
تفصیل کےلے دیکھئے: (جامع ترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء انه لایقطع الصلاۃ الا الکلب والحمار والمرأۃ، حدیث: 338، حاشہ شيخ احمد شاکر رحمة اللہ علیه)
(4)
سترے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گزرنا چاہے تو سترے سے پرے گزر جائے سترے اور نمازی کے درمیان سے نہ گزرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 940 سے ماخوذ ہے۔