حدیث نمبر: 3348
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ سورة العلق آية 18 ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «سندع الزبانية» ” ہم بھی جہنم کے پیادوں کو بلا لیں گے “ ( العلق : ۱۸ ) ، کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں : ابوجہل نے کہا : اگر میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن کو لاتوں سے روندوں گا ، یہ بات آپ نے سنی تو فرمایا : ” اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے دیکھتے ہی دبوچ لیتے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3348
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/تفسیر سورة العلق 4 (4958) ( تحفة الأشراف : 6148) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4958

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4958 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4958. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل (ملعون) نے کہا تھا: ’’اگر میں نے محمد (ﷺ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ضرور اس کی گردن پر پاؤن رکھ کر اسے کچل دوں گا۔‘‘ نبی ﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو اسے فرشتے پکڑ لیتے۔‘‘ عمرو بن خالد نے عبیداللہ سے روایت کرنے میں عبدالرزاق کی متابعت کی ہے، عبیداللہ نے اس حدیث کو عبدالکریم سے روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4958]
حدیث حاشیہ: دوسری روایت میں یوں ہے کہ ابو جہل نے اپنے کہنے کے موافق ایک بارکعبے کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔
وہ آپ کو ایذا دینے کے لئے چلا جب آپ کے قریب پہنچا تو یکا یک ایڑیوں کے بل جھک کر پیچھے ہٹا۔
لوگوں نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے تو تو کہتا تھا میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)
کی گردن کچل ڈالوں گا اب بھاگتا کیوں ہے؟ وہ کہنے لگا جب میں ان کے قریب پہنچا مجھ کو آگ کی ایک خندق اور ہولناک چیزیں پنکھ نظر آئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اگر وہ اور نزدیک آتا تو فرشتے اس کو اچک لیتے، اس کا ایک ایک عضو جدا کر ڈالتے (وحیدی)
کتنے لوگ ایسے بد بخت ہوتے ہیں کہ قدرت کی بہت سی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لاتے۔
ابو جہل بد بخت بھی ان ہی لوگوں میں سے تھا جو دل سے اسلام کی حقیقت جانتا اور صداقت محمدی کو مانتا تھا مگر محض قوم کی عار اور تعصب وعناد کی بنا پر مسلمان ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔
آگے ارشاد باری ہے ﴿وَ اسجُد وَ اقتَرِب﴾ سجده کر اور اللہ کی نزدیکی ڈھونڈھ۔
اس میں اشارہ ہے کہ سجدہ میں بندہ اللہ سے بہت نزدیک ہوتا ہے۔
اسی لئے حکم ہے کہ سجدہ میں جاؤ تب دل کھول کر اللہ سے دعائیں کرو کیونکہ سجدے کی دعائیں عموماً قبول ہوتی ہیں۔
کذا جربنا بعون اللہ تعالیٰ و حسن توفیقه۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4958 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4958 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4958. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوجہل (ملعون) نے کہا تھا: ’’اگر میں نے محمد (ﷺ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ضرور اس کی گردن پر پاؤن رکھ کر اسے کچل دوں گا۔‘‘ نبی ﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’اگر اس نے ایسا کیا ہوتا تو اسے فرشتے پکڑ لیتے۔‘‘ عمرو بن خالد نے عبیداللہ سے روایت کرنے میں عبدالرزاق کی متابعت کی ہے، عبیداللہ نے اس حدیث کو عبدالکریم سے روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4958]
حدیث حاشیہ:
ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبے میں نماز پڑھتے دیکھا تو برے ارادے سے آپ کی طرف بڑھا پھر اچانک پیچھے ہٹنے لگا۔
سردارن قریش نے جب اسے دیکھا تو انھوں نے پوچھا ابو الحکم! کیا ہوا؟ وہ گھبرا کر کہنے لگا: میرے اور محمد (صلی اللہ علیه وسلم)
کے درمیان ایک خوفناک آگ حائل ہو گئی تھی۔
جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اگر وہ میرے پاس آتا تو فرشتے اس کا جوڑ جوڑ الگ کر دیتے۔
‘‘ (مسند أحمد: 370/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4958 سے ماخوذ ہے۔