سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ التِّينِ باب: سورۃ والتین سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3347
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، قَال : سَمِعْتُ رَجُلًا بَدَوِيًّا أَعْرَابِيًّا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَرْوِيهِ يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ، فَقَرَأَ : أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8 ، فَلْيَقُلْ : بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا يُرْوَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا يُسَمَّى .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ` میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا ، میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے ، وہ کہتے تھے جو شخص ( سورۃ ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے : «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ والتین سے بعض آیات کی تفسیر۔`
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص (سورۃ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3347]
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص (سورۃ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3347]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کا ایک راوی مبہم شخص ہے)
نوٹ:
(اس کا ایک راوی مبہم شخص ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3347 سے ماخوذ ہے۔