سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ باب: سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3335
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَمَّادٌ : هُوَ عِنْدَنَا مَرْفُوعٌ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6 قَالَ : " يَقُومُونَ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے ،` وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ” جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ ( المطففین : ۶ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے ۔ حماد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ المطففین سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ” جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ (المطففین: ۶)، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3335]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ” جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “ (المطففین: ۶)، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3335]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین: 6)
وضاحت:
1؎:
جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین: 6)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3335 سے ماخوذ ہے۔