سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْبُسُطِ باب: بچھونے پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ، قَالَ : وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ "قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلَاةِ عَلَى الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ : يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے : ابوعمیر ! «ما فعل النغير» ” بلبل کا کیا ہوا ؟ “ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: ابوعمیر! «ما فعل النغير» ” بلبل کا کیا ہوا؟ “ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 333]
1؎:
بساط یعنی بچھاون سے مراد چٹائی ہے کیونکہ یہ زمین پر بچھائی جاتی ہے۔
اس وقت ام سلیم نے کہا کہ بچہ مر گیا ہے اس کو دفن کر دو اسی صبر وشکر کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے اسی رات ام سلیم کے بطن میں حمل ٹھہرا دیا اوربہترین بدل عطا فرمایا۔
(1)
ابو عمیر رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی ہیں۔
ان دونوں کی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں۔
ابو عمیر رضی اللہ عنہ نے گھر میں ایک چڑیا پال رکھی تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے تو ابو عمیر رضی اللہ عنہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے ان سے چڑیا کا حال چال پوچھتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بچوں سے خوش طبعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
انسان کو خوش مزاج ہونا چاہیے لیکن یہ خوش طبعی شریعت کے اندر ہو۔
واللہ أعلم
نغیر نامی چڑیا سے یہ بچہ کھیلا کرتا تھا اسی لئے آپ نے مزاحاً یہ فرمایا۔
صلی اللہ علیه ألف ألف مرة بعدد کل ذرة آمین یا رب العالمین (راز)
(1)
ابو عمیر رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ابو عمیر کی کنیت سے پکارتے۔
اس کے معنی ہیں: عمیر کا باپ، حالانکہ وہ ابھی خود بچے تھے اور عمیر نامی ان کا کوئی بچہ نہ تھا۔
اس سے بچے کی کنیت رکھنا ثابت ہوا۔
(2)
جب چھوٹے بچے کی کنیت رکھنا جائز ہے تو کسی آدمی کی اولاد ہونے سے پہلے اس کی کنیت رکھنا بالاولیٰ جائز ہوا۔
عربوں کے ہاں بچوں کی اور قبل از لوگوں کی کنیت رکھنے کا عام دستور تھا۔
بچوں کی کنیت نیک فال کے طور پر رکھی جاتی کہ یہ بچہ جوان ہو اور صاحب اولاد ہو۔
بہرحال بچوں اور اولاد پیدا ہونے سے پہلے لوگوں کی کنیت رکھنا جائز ہے، چنانچہ حضرت ہلال کہتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے میری کنیت رکھ دی تھی، حالانکہ میں صاحب اولاد نہ تھا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1390)
نغير: یہ ایک پرندہ ہے، جس کا سر اور چونچ سرخ ہوتی ہے، بعض روایات میں اس پرندہ کو صعوۃ کا نام دیا گیا ہے، ابو عمیر اس سے کھیلتے تھے اور یہ مرگیاتھا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، بچے اور لا ولد شخص کی بھی کنیت رکھی جا سکتی ہے اور اولاد کے نام پر کنیت رکھنا ضروری نہیں ہے اور بچوں کے ساتھ دل لگی کرنا درست ہے، بچے پرندوں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں اور ایک شخص اگر فتنہ کا ڈر نہ ہو تو کسی عورت کے ہاں زیارت کے لیے جا سکتا ہے اور امام کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کے ہاں ملاقات کے لیے جائے اور سب کے ساتھ یکساں اختلاط رکھے، بعض علماء نے اس حدیث سے ساٹھ سے زائد فوائد مستنبط کیے ہیں، فتح الباري باب كنية الصبی و قبل ان يولد للرجل ج 10 دیکھئے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1989]
وضاحت:
1؎:
نغیرگوریا کی مانند ایک چڑیا ہے جس کی چونچ لال ہوتی ہے، ابوعمیر نے اس چڑیا کو پال رکھا تھا اوراس سے بہت پیار کرتے تھے، جب وہ مرگئی تو نبی اکرم ﷺتسلی مزاح کے طور پر ان سے پوچھتے تھے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: ” کیا بات ہے؟ “ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: ” اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4969]
محدثین نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ مسبحع مقفی کلام جائز ہے اور جائز حدود میں منسی مزاح کی بات میں کو ئی حرج نہیں۔
اور بچوں کے ساتھ ملاطفت حسن اخلاق کا حصہ ہے۔
چھوٹی عمر میں کنیت رکھنا جائز ہے اور جانور پال لینا اس کو پنجرے میں رکھنا اور ان سے کھیلنا بھی مباح ہے۔
(امام خطابی رحمۃاللہ علیہ)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ” ابوعمیر “ کہہ کر پکارتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3740]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ وہی حدیث ہے جو نمبر 3720 پر گزری، یہاں اسے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ابو عمیر ؓ ابھی بچے تھے، جن کے ہاں اولاد کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اس کے باوجود نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے کنیت تجویز فرمائی اور اس کنیت سے انہیں مخاطب فرمایا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ” «يا أبا عمير ما فعل النغير» اے ابوعمیر! تمہارا وہ «نغیر» (پرندہ) کیا ہوا؟ “ وکیع نے کہا «نغیر» سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3720]
فوائد و مسائل:
(1)
نغیز یا نغر ایک پرندے کا نام ہے جو چڑیا کے مشابہ ہوتا ہے، اس کی چونچ سرخ ہوتی ہے۔ (النہایہ)
حافظ ابن حجر نے اس کی تشریح میں ایک قول یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد (صعو) (ممولا)
بروزن عفو ہے۔ (فتح الباري: 10/ 715)
(2)
بچوں سے دل لگی کی باتیں کرنا جائز ہے جس سے بچوں کی خوشی ہو۔
(3)
بعض لوگ چھوٹے بچوں سے مذاق میں ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے بچوں کو پریشانی ہوتی ہے۔
یہ جائز نہیں۔
(4)
پرندے وغیرہ پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کی خوراک وغیرہ کا مناسب خیال رکھا جائے۔