سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ سَأَلَ سَائِلٌ باب: سورۃ المعارج سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : " كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29 ، قَالَ : " كَعَكَرِ الزَّيْتِ ، فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ : «يوم تكون السماء كالمهل» ” جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا “ ( المعارج : ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : ” اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے ، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ المعارج سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ” جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا “ (المعارج: ۸)، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ” اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3322]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ” جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا “ (المعارج: ۸)، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ” اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3322]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا (المعارج: 8)
وضاحت:
1؎:
جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا (المعارج: 8)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3322 سے ماخوذ ہے۔