سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْمُمْتَحَنَةِ باب: سورۃ الممتحنہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ " قَالَ مَعْمَرٌ، فَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ إِلَّا امْرَأَةً يَمْلِكُهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا امتحان نہیں لیا کرتے تھے مگر اس آیت سے جس میں اللہ نے «إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ” اے مومنوا ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ( مکہ سے ) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو ، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے ، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں “ ( الممتحنۃ : ۱۰ ) ، کہا ہے ۱؎ ۔ معمر کہتے ہیں : ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے باپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اس عورت کے سوا جس کے آپ مالک ہوتے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
۲؎: اس سے اشارہ اس بات کا ہے کہ آپ عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے، اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر رکھ کر بیعت لیا وہ اکثر مرسل روایات ہیں، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اپنے اور ان کے ہاتھوں کے درمیان کوئی حائل (موٹا کپڑا وغیرہ) رکھا ہو، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے «لیس فی نسخۃالالبانی، وہوضعیف لأجل أبی نصرالاسدی فہومجہول» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا امتحان نہیں لیا کرتے تھے مگر اس آیت سے جس میں اللہ نے «إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» " اے مومنوا! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں " (الممتحنۃ: ۱۰)، کہا ہے ۱؎۔ معمر کہتے ہیں: ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3306]
وضاحت:
1؎:
اے مومنوا! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں (الممتحنة: 10) اورامتحان لینے کا مطلب یہ ہے کہ کافر ہوں اور اپنے شوہروں سے ناراض ہو کر، یا کسی مسلمان کے عشق میں گرفتار ہو کر آئی ہوں، اور جب تحقیق ہو جائے تب بھی صلح حدیبیہ کی شق کے مطابق ان عورتوں کو واپس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مسلمان عورت کافرمرد کے لیے حرام ہے، (مردوں کو بھلے واپس کیا جائیگا)
2؎:
اس سے اشارہ اس بات کا ہے کہ آپﷺ عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے، اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپﷺ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پررکھ کر بیعت لی وه اکثرمرسل روایات ہیں، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپﷺ نے اپنے اور ان کے ہاتھوں کے درمیان کوئی حائل (موٹا کپڑا وغیرہ) رکھا ہو، جیساکہ بعض روایات میں آتا ہے (لَیْسَ فِي نُسْخَةِ الألْبَانِي، وهُوَضَعِیْفٌ لِأَجْلِ أَبِي نَصْرِالأَسدِي فَهُوَمَجْهُوْلٌ)
اسی طرح ایک روایت میں ہے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس سے بھی مصافحہ ثابت نہیں ہوتا اور ابوداؤد نے مراسیل میں شعبی سے نکالا کہ آپ نے ایک چادر ہاتھ پر رکھ لی اور فرمایا میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ان حدیثوں کو دیکھ کر بھی جو مرشد عورتوں کو مرید کرتے وقت ان سے ہاتھ ملائے وہ بدعتی اور مخالف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اسی طرح جو مرشد غیرمحرم عورتوں مریدنیوں کو بے ستر اپنے پاس آنے دے۔
مثلاً سر اور سینہ کھولے ہوئے تو وہ مرشد نہیں ہے بلکہ مضل یعنی گمراہ کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔
(وحیدی)
جو لوگ پیشہ ور پیر مرشد بنے ہوئے ہیں ان کی اکثریت کا یہی حال ہے وہ مرید ہونے والی مستورات احکام شرعیہ پردہ حجاب وغیرہ سے اپنے لئے مستثنیٰ سمجھتے ہیں اور ان سے بغیر حجاب کے خلط ملط رکھنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے ایسے پیروں مرشدوں ہی کے متعلق مولانا روم نے فرمایا ہے۔
کارِ شیطان می کند نامش ولی گر ولی ایں است لعنت بر ولی "یعنی کتنے لوگ شیطانی کام کرنے والے ولی کہلاتے ہیں اگر ایسے ہی لوگ ولی ہیں تو ایسے ولیوں پر خدا کی لعنت نازل ہو۔
‘‘ آمین
جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو مسلمان مکے سے مدینے آئے گا۔
مسلمان اسے کافروں کو لوٹانے کے پابند ہوں گے اور اس شرط کے تحت مسلمانوں نے کافروں کے مطالبے پر کچھ مسلمان لوٹا بھی دیے اسی دوران میں جب اُم کلثوم بنت عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہجرت کر کے مدینے آگئیں تو کافروں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کر دیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے اس مطالبےکو درست تسلیم نہ کیا کیونکہ شرط کے الفاظ کی روسے عورتیں اس شرط سےمستثنیٰ تھیں لیکن مسلمانوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ہجرت کرنے آنے والی عورتوں سے پوچھ گچھ کریں کہ آیا وہ واقعی مسلمان ہیں؟ محض اسلام کی خاطر وطن چھوڑ کر آئی ہیں؟ کوئی دنیوی یا نفسانی خواہش تو اس ہجرت کا باعث نہیں تھی؟ کہیں خاوندوں سے لڑ کر دیا گھریلو جھگڑوں سے بے زار ہو کر یا محض سیر و سیاحت یا کوئی دوسری غرض تو ہجرت کا باعث نہیں تھی۔
جب عورتیں پوچھ گچھ میں کامیاب ہو جائیں تو انھیں کس صورت میں بھی کافروں کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ حدیث میں صراحت ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مہاجر عورتوں سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔