سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَشْرِ باب: سورۃ الحشر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : نَوِّمِي الصِّبْيَةَ ، وَأَطْفِئِي السِّرَاجَ ، وَقَرِّبِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9 " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا ، اس انصاری کے پاس ( اس وقت ) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا ( ایسا کرو ) بچوں کو ( کسی طرح ) سلا دو اور ( کھانا کھلانے چلو تو ) چراغ بجھا دو ، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو ، اس پر آیت «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» ” یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں “ ( الحشر : ۹ ) ، نازل ہوئی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا، اس انصاری کے پاس (اس وقت) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا (ایسا کرو) بچوں کو (کسی طرح) سلا دو اور (کھانا کھلانے چلو تو) چراغ بجھا دو، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو، اس پر آیت «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» ” یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں “ (الحشر: ۹)، نازل ہوئی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3304]
وضاحت:
1؎:
یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں(الحشر: 9)
2؎:
یہ انصاری شخص ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ صحیح مسلم میں صراحت ہے، اس واقعہ میں یہ بھی ہے کہ دونوں میاں بیوی اندھیرے میں برتن اپنے سامنے رکھ کرخودبھی کھانے کا مظاہرہ کر رہے تھے تاکہ مہمان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ بھی کھا رہے ہیں، چراغ بجھا دینے کی یہی حکمت تھی۔