سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِمُؤَخَّرِ الرَّأْسِ باب: مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، مِنْهُمْ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا ، آپ نے ( پہلے ) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎ ، پھر ( دوسری بار ) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے ، ۲- اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں ، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں ۳؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے «مرتین» ” دو بار “ سے تعبیر کیا ہے۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔
۳؎: یہ مرجوح مذہب ہے، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔
۳؎: یہ مرجوح مذہب ہے، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان۔`
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے (پہلے) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر (دوسری بار) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 33]
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے (پہلے) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر (دوسری بار) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 33]
اردو حاشہ:
1؎:
حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے ((مَرَّتَيْنِ)) ’’دوبار‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
2؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔
3؎:
یہ مرجوح مذہب ہے، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
1؎:
حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے ((مَرَّتَيْنِ)) ’’دوبار‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
2؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔
3؎:
یہ مرجوح مذہب ہے، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 33 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 34 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سر کا مسح صرف ایک بار ہے۔`
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
اردو حاشہ:
1؎:
اس باب سے مؤلف ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو تین بار مسح کے قائل ہیں۔
2؎:
امام ترمذی نے امام شافعی سے ایسا ہی نقل کیا ہے، مگر بغوی نے نیز تمام شافعیہ نے امام شافعی کے بارے میں تین بار مسح کرنے کا قول نقل کیا ہے، عام شافعیہ کا عمل بھی تین ہی پر ہے، مگر یا تو یہ دیگر اعضاء پر قیاس ہے جو نص صریح کے مقابلہ میں صحیح نہیں ہے، یا کچھ ضعیف حدیثوں سے تمسک ہے (نیز صحیحین کی دیگراحادیث میں صرف ایک پر اکتفاء کی صراحت ہے)
1؎:
اس باب سے مؤلف ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو تین بار مسح کے قائل ہیں۔
2؎:
امام ترمذی نے امام شافعی سے ایسا ہی نقل کیا ہے، مگر بغوی نے نیز تمام شافعیہ نے امام شافعی کے بارے میں تین بار مسح کرنے کا قول نقل کیا ہے، عام شافعیہ کا عمل بھی تین ہی پر ہے، مگر یا تو یہ دیگر اعضاء پر قیاس ہے جو نص صریح کے مقابلہ میں صحیح نہیں ہے، یا کچھ ضعیف حدیثوں سے تمسک ہے (نیز صحیحین کی دیگراحادیث میں صرف ایک پر اکتفاء کی صراحت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 34 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 126 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسح کی ابتدا`
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 126]
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 126]
فوائد و مسائل:
اس روایت میں سر کے مسح کو دو بار کہا گیا ہے، جو کہ بیان کے جواز کے لیے ہے۔ بعض کا قول ہے کہ راوی کی تعبیر ہے، راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائے اور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے، دوسرا اس میں مسح کی ابتداء سر کے آخری حصے سے بتلائی گئی ہے جو دوسری روایات کے خلاف ہے، اس لیے یہ روایت صحیح حدیث کے معارض ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں احتمال کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ حدیث حسن درجے کی ہے، اس میں اور ایک مسح والی روایت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ تطبیق ممکن ہے اور وہ یوں ہے کہ اس کو کبھی کبھار پر محمول کر لیا جائے۔ «والله أعلم»
اس روایت میں سر کے مسح کو دو بار کہا گیا ہے، جو کہ بیان کے جواز کے لیے ہے۔ بعض کا قول ہے کہ راوی کی تعبیر ہے، راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائے اور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے، دوسرا اس میں مسح کی ابتداء سر کے آخری حصے سے بتلائی گئی ہے جو دوسری روایات کے خلاف ہے، اس لیے یہ روایت صحیح حدیث کے معارض ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں احتمال کمزور ہیں۔ کیونکہ یہ حدیث حسن درجے کی ہے، اس میں اور ایک مسح والی روایت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ تطبیق ممکن ہے اور وہ یوں ہے کہ اس کو کبھی کبھار پر محمول کر لیا جائے۔ «والله أعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 126 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 128 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سر کے مسح کا ایک طریقہ`
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 128]
«. . . عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 128]
فوائد و مسائل:
حدیث میں مذکور سر کے مسح کا یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کے بال لمبے ہوں (یعنی پٹے بال) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، عورتوں کے بال بھی لمبے ہوتے ہیں، وہ بھی اس طریقے سے سر کا مسح کر سکتی ہیں۔
حدیث میں مذکور سر کے مسح کا یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے ہے جن کے بال لمبے ہوں (یعنی پٹے بال) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، عورتوں کے بال بھی لمبے ہوتے ہیں، وہ بھی اس طریقے سے سر کا مسح کر سکتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 128 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 130 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سر کا مسح`
«. . . عَنِ الرُّبَيِّعِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 130]
«. . . عَنِ الرُّبَيِّعِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءٍ كَانَ فِي يَدِهِ . . .»
”. . . ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 130]
فوائد و مسائل:
بعض علماء کے نزدیک اس راوی کی حدیث میں اضطراب ہے، کیونکہ یہی روایت ابن ماجہ میں ہے تو اس میں نیا پانی لینے کی صراحت ہے اور بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا پانی لیا اور آدھا گرا دیا اور پھر ہاتھوں کی تری سے سر کا مسح کیا۔ [عون المعبود]
بہرحال صحیح روایت سے سر کے مسح کے لیے نئے پانی کا لینا ثابت ہے اور وہی صحیح ہے۔
بعض علماء کے نزدیک اس راوی کی حدیث میں اضطراب ہے، کیونکہ یہی روایت ابن ماجہ میں ہے تو اس میں نیا پانی لینے کی صراحت ہے اور بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا پانی لیا اور آدھا گرا دیا اور پھر ہاتھوں کی تری سے سر کا مسح کیا۔ [عون المعبود]
بہرحال صحیح روایت سے سر کے مسح کے لیے نئے پانی کا لینا ثابت ہے اور وہی صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 130 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 390 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔`
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی ڈالو “ ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانی ڈالو “ ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
اردو حاشہ: (1)
حضرت ربیع رضی اللہ عنہ صغار صحابیات میں سے ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں کم سن تھیں۔
انصار کے قبیلہ بنو نجار سے تعلق تھا۔
ان کے والد حضرت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک تھے، (2)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر شواہد کی بناء پر حدیث میں مذکور جملے (أَخَذَ مَاءً جَدِيْداً)
کے سوا باقی روایت قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی ؒنے بھی اس روایت کی بابت یہی حکم لگایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح ابوداؤد، حدیث: 122، 117)
(3)
پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہے جیسا کہ صحیح روایت میں بیان ہوا ہے۔
اس میں ’’سر کے اگلے اور پچھلے حصے‘‘ کے مسح کرنے کا بیان ہے، اس سے مراد پورے سر کا مسح ہی ہے۔
حضرت ربیع رضی اللہ عنہ صغار صحابیات میں سے ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں کم سن تھیں۔
انصار کے قبیلہ بنو نجار سے تعلق تھا۔
ان کے والد حضرت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک تھے، (2)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے لیکن دیگر شواہد کی بناء پر حدیث میں مذکور جملے (أَخَذَ مَاءً جَدِيْداً)
کے سوا باقی روایت قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی ؒنے بھی اس روایت کی بابت یہی حکم لگایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح ابوداؤد، حدیث: 122، 117)
(3)
پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہے جیسا کہ صحیح روایت میں بیان ہوا ہے۔
اس میں ’’سر کے اگلے اور پچھلے حصے‘‘ کے مسح کرنے کا بیان ہے، اس سے مراد پورے سر کا مسح ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 390 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 438 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سر کے مسح کا بیان۔`
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دوبار کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 438]
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا مسح دوبار کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 438]
اردو حاشہ: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ یہی روایت ابن عفراء رضی اللہ عنہ سے سنن ابو داؤد میں بھی ہے اور وہاں ہمارے فاضل محقق نے حسن قراردیا ہے علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے بھی حسن قراردیا ہے۔
بہرحال یہ روایت قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
(2)
اس روایت میں سر کے مسح کو دوبار کرنے کا ذکر ہے جوکہ بیان جواز کے لیے ہے۔
بعض کا قول ہے کہ یہ روای کی تعبیر ہے۔
راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائےاور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے۔
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ یہی روایت ابن عفراء رضی اللہ عنہ سے سنن ابو داؤد میں بھی ہے اور وہاں ہمارے فاضل محقق نے حسن قراردیا ہے علاوہ ازیں مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے بھی حسن قراردیا ہے۔
بہرحال یہ روایت قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
(2)
اس روایت میں سر کے مسح کو دوبار کرنے کا ذکر ہے جوکہ بیان جواز کے لیے ہے۔
بعض کا قول ہے کہ یہ روای کی تعبیر ہے۔
راوی کا مطلب ہے کہ ایک بار ہاتھ پیچھے سے آگے کو لائےاور دوسری بار آگے سے پیچھے کو لیکن پہلی بات زیادہ درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 438 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 458 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان۔`
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 458]
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 458]
اردو حاشہ: (1)
قرآن مجید میں ہے: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ﴾ (المائده: 6)
اس میں متواتر روایت ﴿أَرْجُلَكُمْ﴾ (لام مفتوح)
ہے جس کا عطف ﴿وُجُوهَكُمْ﴾ پر ہے۔
یعنی جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے منہ اور کہنیون تک ہاتھ دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ۔
لیکن ایک شاذ قراءت ﴿أَرْجُلِكُمْ﴾ (لام مكسور)
ہےاس صورت میں اس کا عطف ﴿بِرُءُوسِكُمْ﴾ پر ہوگا اور معنی ہونگے اپنے سروں اور پیروں کا مسح کرو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی باتاس شاذ قرات پر مبنی ہوسکتی تھی۔
چونکہ یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے۔
اسی لیے شیخ البانی ؒنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو منکر قراردیا ہے۔
صحیح بات متواتر قرات کے مطابق ہی اس آیت کا مفہوم ہے اور اس کی رو سے قرآن میں پیروں کے دھونے کا ہی ذکر ہے نہ کہ مسح کرنے کا۔
قرآن مجید میں ہے: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ﴾ (المائده: 6)
اس میں متواتر روایت ﴿أَرْجُلَكُمْ﴾ (لام مفتوح)
ہے جس کا عطف ﴿وُجُوهَكُمْ﴾ پر ہے۔
یعنی جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے منہ اور کہنیون تک ہاتھ دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ۔
لیکن ایک شاذ قراءت ﴿أَرْجُلِكُمْ﴾ (لام مكسور)
ہےاس صورت میں اس کا عطف ﴿بِرُءُوسِكُمْ﴾ پر ہوگا اور معنی ہونگے اپنے سروں اور پیروں کا مسح کرو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی باتاس شاذ قرات پر مبنی ہوسکتی تھی۔
چونکہ یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے۔
اسی لیے شیخ البانی ؒنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو منکر قراردیا ہے۔
صحیح بات متواتر قرات کے مطابق ہی اس آیت کا مفہوم ہے اور اس کی رو سے قرآن میں پیروں کے دھونے کا ہی ذکر ہے نہ کہ مسح کرنے کا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 458 سے ماخوذ ہے۔