سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ باب: سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي قَوْلِهِ : " إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً سورة الواقعة آية 35 ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الْمُنْشَآتِ اللَّائِي كُنَّ فِي الدُّنْيَا عَجَائِزَ عُمْشًا رُمْصًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ .´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «إنا أنشأناهن إنشاء» ” ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان “ ( الواقعہ : ۸۲ ) ، کے سلسلے میں فرمایا : ” ان نئی اٹھان والی عورتوں میں وہ عورتیں بھی ہیں جو دنیا میں بوڑھی تھیں ، جن کی آنکھیں خراب ہو چکی ہوں اور ان سے پانی بہتا رہتا ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے مرفوع صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «إنا أنشأناهن إنشاء» ” ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان “ (الواقعہ: ۸۲)، کے سلسلے میں فرمایا: ” ان نئی اٹھان والی عورتوں میں وہ عورتیں بھی ہیں جو دنیا میں بوڑھی تھیں، جن کی آنکھیں خراب ہو چکی ہوں اور ان سے پانی بہتا رہتا ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3296]
وضاحت:
1؎:
ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان (الواقعة: 82)
نوٹ:
(سند میں ’’موسی بن عبیدہ‘‘ اور ’’یزید بن ابان وقاشی‘‘ دونوں ضعیف ہیں)