حدیث نمبر: 3295
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82 قَالَ : شُكْرُكُمْ تَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، وَبِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» ” اور تم اپنے رزق ( کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ ) تم ( اللہ کی رزاقیت کی ) تکذیب کرتے ہو “ ( الواقعہ : ۸۲ ) ، کے متعلق فرمایا : ” تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے : تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے ۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے ، ۲- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے ، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے ، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے ، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3295) إسناده ضعيف, عبد الأعلي الثعلبي ضعيف (تقدم:2950) و حديث مسلم (73/127) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10173) (ضعیف الإسناد) (سند میں ’’ عبد الاعلی بن عامر ‘‘ کو وہم ہو جایا کرتا تھا)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون» " اور تم اپنے رزق (کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ) تم (اللہ کی رزاقیت کی) تکذیب کرتے ہو " (الواقعہ: ۸۲)، کے متعلق فرمایا: " تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے: تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3295]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور تم اپنے رزق (کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ)تم (اللہ کی رزاقیت کی) تکذیب کرتے ہو (الواقعہ: 82)

نوٹ:
(سند میں ’’عبد الاعلی بن عامر‘‘ کو وہم ہو جایا کرتا تھا)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3295 سے ماخوذ ہے۔