حدیث نمبر: 3293
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَءُوا : وَظِلٍّ مَمْدُودٍ { 30 } وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ { 31 } سورة الواقعة آية 30-31 . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ایک درخت ہے ، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا ، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ” ان کے لیے دراز سایہ ہے اور ( فراواں ) بہتا ہوا پانی “ ( الواقعہ : ۳۰ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1343) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3251

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ان کے لیے دراز سایہ ہے اور (فراواں) بہتا ہوا پانی (الواقعہ: ۳۰)۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3293]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کے لیے دراز سایہ ہے اور (فراواں) بہتا ہوا پانی (الواقعہ: 30)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3293 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3251 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3251. حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک درخت اتنا بڑا ہے کہ اگر سوار اس کے سائے میں سو برس تک چلتا رہے تب بھی اسے طے نہ کرسکے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3251]
حدیث حاشیہ: سورۃ واقعہ میں اللہ پاک نے جنت کے سائے کے بارے میں فرمایا وظل ممدود (الواقعة: 30)
یعنی وہاں درختوں کا سایہ دور دراز تک پھیلا ہوگا۔
یا اللہ ہم سب اس کتاب کے قدر دانوں کو جنت کا وہ سایہ عطا فرمائیو۔
احادیث و آیات سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جنت ایک مجسم حقیقت کا نام ہے جو لوگ جنت کو محض خواب و خیال کی حد تک مانتے ہیں وہ خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔
ایسے غلط خیال والوں کے لیے اگر جنت محض ایک خواب و ناقابل تعبیر ہی بن کر رہ جائے تو عجب نہیں ہے۔
اللهم لا تجعلنا منهم آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3251 سے ماخوذ ہے۔