حدیث نمبر: 3289
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ " ، فَقَالُوا : سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَن حُصَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر ، ان لوگوں نے کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے ، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا : اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے ، جبیر نے اپنے باپ محمد سے ، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3197) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3289]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3289 سے ماخوذ ہے۔