سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ باب: سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3288
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب گواہ رہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2182 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´چاند کے شق (دو ٹکڑے) ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ گواہ رہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2182]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ گواہ رہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2182]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چاند کا دوٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پرہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
وضاحت:
1؎:
چاند کا دوٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پرہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2182 سے ماخوذ ہے۔