سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ باب: سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3287
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تم سب گواہ رہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3871 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3871. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ واقعی چاند دولخت ہوا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3871]
حدیث حاشیہ: اس سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ’’قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
‘‘ (القمر: 1: 54)
انشق معنٰی میں ینشق کے ہے یعنی چاند پھٹے گا اب یہ اعتراض کہ اگر چاند پھٹا ہوتا تو اہل رصد اور ہیئت اور دنیا کے مہندس اس واقعہ کو نقل کرتے کیونکہ عجیب واقعہ تھا، واہی ہے اس لئے کہ یہ پھٹنا ایک لحظہ کے لیے تھا معلوم نہیں کہ اورملک والوںکو نظر بھی آیا یا نہیں احتمال ہے کہ وہ سوتے ہوں یا اپنے کا موں میں مشغول ہوں اور بڑی دلیل اس واقعہ کی صحت کی یہ ہے کہ اگر چاند نہ پھٹا ہوتا تو جب قرآن میں یہ اترا، انشق القمر تو کافراور مخالفین اسلام سب تکذیب شروع کر دیتے وہ تو حق باتوں میں قرآن کی مخالفت کیا کرتے تھے چہ جائیکہ ایک واقعہ نہ ہوا ہوتا اور قرآن میں اس کا ہونا بیان کیا جاتا تو کس قدر اعتراض اور تکذیب کی بوچھاڑ کردیتے۔
(وحیدی)
قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں چاند کے پھٹ جانے کا واقعہ صرا حت کے ساتھ موجود ہے ایک مومن مسلمان کے لئے ان سے زیادہ اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے یوں تاریخ میں ایسے بھی مختلف ممالک کے لوگوں کا ذکر موجود ہے جنہوں نے اس کو دیکھا اور وہ تحقیق حق کر نے پر مسلمان ہوگئے۔
دوسرے مقام پر اس کی تفصیل آئے گی۔
‘‘ (القمر: 1: 54)
انشق معنٰی میں ینشق کے ہے یعنی چاند پھٹے گا اب یہ اعتراض کہ اگر چاند پھٹا ہوتا تو اہل رصد اور ہیئت اور دنیا کے مہندس اس واقعہ کو نقل کرتے کیونکہ عجیب واقعہ تھا، واہی ہے اس لئے کہ یہ پھٹنا ایک لحظہ کے لیے تھا معلوم نہیں کہ اورملک والوںکو نظر بھی آیا یا نہیں احتمال ہے کہ وہ سوتے ہوں یا اپنے کا موں میں مشغول ہوں اور بڑی دلیل اس واقعہ کی صحت کی یہ ہے کہ اگر چاند نہ پھٹا ہوتا تو جب قرآن میں یہ اترا، انشق القمر تو کافراور مخالفین اسلام سب تکذیب شروع کر دیتے وہ تو حق باتوں میں قرآن کی مخالفت کیا کرتے تھے چہ جائیکہ ایک واقعہ نہ ہوا ہوتا اور قرآن میں اس کا ہونا بیان کیا جاتا تو کس قدر اعتراض اور تکذیب کی بوچھاڑ کردیتے۔
(وحیدی)
قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں چاند کے پھٹ جانے کا واقعہ صرا حت کے ساتھ موجود ہے ایک مومن مسلمان کے لئے ان سے زیادہ اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے یوں تاریخ میں ایسے بھی مختلف ممالک کے لوگوں کا ذکر موجود ہے جنہوں نے اس کو دیکھا اور وہ تحقیق حق کر نے پر مسلمان ہوگئے۔
دوسرے مقام پر اس کی تفصیل آئے گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3871 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3871 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3871. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ واقعی چاند دولخت ہوا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3871]
حدیث حاشیہ:
1۔
ان تمام احادیث میں معجزہ شق قمر کا بیان ہے جس کی تفصیل ہم حدیث: 3636۔
3637۔
3638۔
کے تحت بیان کرآ ئے ہیں،بہرحال قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں چاند کے پھٹ جانے کا واقعہ صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
ایک بندہ مسلم کے لیے ان سے زیادہ اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
اس واقعہ کے صحیح ہونے کے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگرچاند نہ پھٹا ہوتا تو اس وقت کافر اور مخالفین اس آیت کی تکذیب کردیتے جس میں شق قمر کا ذکر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ’’قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
‘‘ (القمر: 1: 54)
اگر یہ واقعہ نہ ہواہوتاتو کفار مسلمانوں پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردیتے۔
2۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگرشق قمر رات کے وقت ہوا تھا تو تمام دنیا کے لوگ اسے دیکھتے صرف اہل مکہ تک محدود نہ رہتا۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کے سماوی واقعہ کو تمام لوگ دیکھیں کیونکہ رات کے وقت عموماً لوگ بے خبر اور سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔
ان کے دروازے بھی بند ہوتے ہیں اس بنا پر یہ اعتراض لغو ہے چاند کو گرہن لگتا ہے مگر اسے دیکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں، نیز گرہن بعض ممالک میں ہی دیکھاجاتا ہے، لہذا شق قمر کے لیے ضروری نہیں کہ تمام دنیا کے لوگ اسے دیکھتے،جن ممالک میں شق قمر دیکھا گیا اس کی تفصیل معجزات میں بیان کردی گئی ہے۔
1۔
ان تمام احادیث میں معجزہ شق قمر کا بیان ہے جس کی تفصیل ہم حدیث: 3636۔
3637۔
3638۔
کے تحت بیان کرآ ئے ہیں،بہرحال قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں چاند کے پھٹ جانے کا واقعہ صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
ایک بندہ مسلم کے لیے ان سے زیادہ اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔
اس واقعہ کے صحیح ہونے کے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگرچاند نہ پھٹا ہوتا تو اس وقت کافر اور مخالفین اس آیت کی تکذیب کردیتے جس میں شق قمر کا ذکر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ ’’قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
‘‘ (القمر: 1: 54)
اگر یہ واقعہ نہ ہواہوتاتو کفار مسلمانوں پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردیتے۔
2۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگرشق قمر رات کے وقت ہوا تھا تو تمام دنیا کے لوگ اسے دیکھتے صرف اہل مکہ تک محدود نہ رہتا۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کے سماوی واقعہ کو تمام لوگ دیکھیں کیونکہ رات کے وقت عموماً لوگ بے خبر اور سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔
ان کے دروازے بھی بند ہوتے ہیں اس بنا پر یہ اعتراض لغو ہے چاند کو گرہن لگتا ہے مگر اسے دیکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں، نیز گرہن بعض ممالک میں ہی دیکھاجاتا ہے، لہذا شق قمر کے لیے ضروری نہیں کہ تمام دنیا کے لوگ اسے دیکھتے،جن ممالک میں شق قمر دیکھا گیا اس کی تفصیل معجزات میں بیان کردی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3871 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3636 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3636. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: کہ نبی ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم گواہ رہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3636]
حدیث حاشیہ:
چاند کا دوٹکڑے ہونا ایک ایسا معجزہ ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔
اگرچہ یہ قیامت کی ایک نشانی بھی ہے جو واقع ہو چکی ہے اس معجزے کے متعلق منکرین کے کئی ایک اعتراض ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
قرآن کریم میں ہے۔
’’جب قیامت قریب آجائے گی اور چاند پھٹ جائے گا۔
‘‘ (القمر: 1/54)
مستقبل میں ایسا ہو گا جیسا کہ نظام شمسی کے متعلق دیگر مقامات پر وضاحت ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کافروں کا چاند کے پھٹنے کو جادو کہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک حسی معجزہ تھا جو وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
اگر واقعہ ہوا تھا تو لوگوں کی کثیر تعداد کو اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ واقعہ رات کا ہے دن کا نہیں رات کے وقت اکثر لوگ سوئے ہوتے ہیں پھر اس وقت آدھی دنیا میں تو ویسے ہی دن نکلا ہوا تھا باقی آدھی دنیا میں بھی صرف ان مقامات پر نظر آسکتا تھا جو منیٰ سے مشرق میں تھے۔
اس کے علاوہ یہ انشقاق قمر صرف ایک لمحے کے لیے ہوااسے کون دیکھتا اس کے باوجود آس پاس کے لوگوں نے شہادت دی تھی۔
یہ تاریخ کا اہم واقعہ ہے اسے کہیں ذکر ہونا چاہیے تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مستند تاریخ کتب حدیث ہی سے دستیاب ہو سکتی ہے اور تمام کتب حدیث میں یہ واقعہ موجود ہے پھر تاریخ اس واقعے کے اندراج سے یکسر خالی نہیں ہے۔
تاریخ فرشتہ میں مذکورہے کہ مالا بار کے مہاراجہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور یہی واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا۔
چاند اگر مدار بدل لیتا یا مدار سے ہٹ کر چلنے لگتا تو یہ باتیں اس قبل تھیں کہ ہئیت دان اس کا ذکر کرتے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی چیز واقع نہیں ہوئی بلکہ ایک لمحے میں وہ دو لخت ہوا اور فوراً اپنی اصلی حالت میں آگیا ایسے حالات ہئیت دان کیا ذکر کریں۔
آج کل چاند پر جانے والوں نے مشاہد کیا ہے کہ وہاں ایک گہری دراڑموجود ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی دراڑ ہے جو معجزہ شق قمر میں چاند پر واقع ہوئی ہے۔
واللہ أعلم۔
چاند کا دوٹکڑے ہونا ایک ایسا معجزہ ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔
اگرچہ یہ قیامت کی ایک نشانی بھی ہے جو واقع ہو چکی ہے اس معجزے کے متعلق منکرین کے کئی ایک اعتراض ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
قرآن کریم میں ہے۔
’’جب قیامت قریب آجائے گی اور چاند پھٹ جائے گا۔
‘‘ (القمر: 1/54)
مستقبل میں ایسا ہو گا جیسا کہ نظام شمسی کے متعلق دیگر مقامات پر وضاحت ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کافروں کا چاند کے پھٹنے کو جادو کہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک حسی معجزہ تھا جو وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
اگر واقعہ ہوا تھا تو لوگوں کی کثیر تعداد کو اس کا علم ہونا چاہیے تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ واقعہ رات کا ہے دن کا نہیں رات کے وقت اکثر لوگ سوئے ہوتے ہیں پھر اس وقت آدھی دنیا میں تو ویسے ہی دن نکلا ہوا تھا باقی آدھی دنیا میں بھی صرف ان مقامات پر نظر آسکتا تھا جو منیٰ سے مشرق میں تھے۔
اس کے علاوہ یہ انشقاق قمر صرف ایک لمحے کے لیے ہوااسے کون دیکھتا اس کے باوجود آس پاس کے لوگوں نے شہادت دی تھی۔
یہ تاریخ کا اہم واقعہ ہے اسے کہیں ذکر ہونا چاہیے تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مستند تاریخ کتب حدیث ہی سے دستیاب ہو سکتی ہے اور تمام کتب حدیث میں یہ واقعہ موجود ہے پھر تاریخ اس واقعے کے اندراج سے یکسر خالی نہیں ہے۔
تاریخ فرشتہ میں مذکورہے کہ مالا بار کے مہاراجہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور یہی واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا تھا۔
چاند اگر مدار بدل لیتا یا مدار سے ہٹ کر چلنے لگتا تو یہ باتیں اس قبل تھیں کہ ہئیت دان اس کا ذکر کرتے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی چیز واقع نہیں ہوئی بلکہ ایک لمحے میں وہ دو لخت ہوا اور فوراً اپنی اصلی حالت میں آگیا ایسے حالات ہئیت دان کیا ذکر کریں۔
آج کل چاند پر جانے والوں نے مشاہد کیا ہے کہ وہاں ایک گہری دراڑموجود ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی دراڑ ہے جو معجزہ شق قمر میں چاند پر واقع ہوئی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3636 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3285 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ” گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3285]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ” گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3285]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قیامت قریب آ چکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں (القمر: 1)
وضاحت:
1؎:
قیامت قریب آ چکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں (القمر: 1)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3285 سے ماخوذ ہے۔