سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ وَالنَّجْمِ باب: سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلا اللَّمَمَ سورة النجم آية 32 قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا ، وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق . عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ” جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ ( جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے ) “ ( النجم : ۳۲ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے ، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ” جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ (جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے) “ (النجم: ۳۲)، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3284]
وضاحت:
1؎:
جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ (جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے) (النجم: 32)