حدیث نمبر: 3281
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، وأبو نعيم، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ : رَآهُ بِقَلْبِهِ " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» ” جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں ( بلکہ اس کی تصدیق کی ) “ ( النجم : ۱۱ ) ، پڑھی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الظلال (191 / 439)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6121) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں (بلکہ اس کی تصدیق کی) (النجم: ۱۱)، پڑھی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3281]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں (بلکہ اس کی تصدیق کی) (النجم: 11)

نوٹ:
(عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3281 سے ماخوذ ہے۔