حدیث نمبر: 3279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ، قُلْتُ : أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ سورة الأنعام آية 103 قَالَ : وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ ، وَقَالَ : أُرِيَهُ وَقَدْ رَأَى مُحَمّدُ رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عکرمہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، میں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ” اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے “ ( الانعام : ۱۰۳ ) ، انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے ( تم سمجھ نہیں سکے ) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے ، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف ظلال الجنة (190 / 437) , شیخ زبیر علی زئی: (3279) إسناده ضعيف (بل ھو حسن), محمد بن عمرو بن نبھان البصري مجھول ، وثقه الترمذي وحده . . . (وله طريق آخر عند ابن أبى عاصم فى السنة(437) وسنده حسن و رواه ابن خزيمة فى كتاب التوحيد (ص198 ح 273)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 6040) (ضعیف) (سند میں حکم بن ابان سے وہم ہو جایا کرتا تھا)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے (الانعام: ۱۰۳)، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے (تم سمجھ نہیں سکے) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3279]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ا س کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے (الانعام: 103)

  نوٹ:
(سند میں حکم بن ابان سے وہم ہو جایا کرتا تھا)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3279 سے ماخوذ ہے۔